مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ التَّوَضُّؤِ مِنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ وَالِانْتِفَاعِ بِهَا إِذَا دُبِغَتْ . باب: مردار کی کھال کی جب دباغت کر لی گئی ہو (تو اس سے بنے ہوئے مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے ) وضو کرنا یا اُس کھال سے نفع حاصل کرنا
حدیث نمبر: 1088
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَوْهَبَ وَضُوءًا ، فَقِيلَ لَهُ : لَمْ نَجِدْ ذَلِكَ إِلَّا فِي مَسْكِ مَيْتَةٍ . قَالَ : " أَدَبَغْتُمُوهُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَهَلُمَّ ، فَإِنَّ ذَلِكَ طَهُورُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے لیے پانی طلب کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : ہمیں پانی صرف ایک مردہ ( جانور کی کھال سے بنے ہوئے ) مشکیزے میں مل رہا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے اس کی دباغت کر لی تھی ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر لے آؤ ! کیونکہ یہ ( دباغت ) اُس ( مردار کے چمڑے ) کے لیے طہارت کا باعث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔