مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ التَّوَضُّؤِ مِنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ وَالِانْتِفَاعِ بِهَا إِذَا دُبِغَتْ . باب: مردار کی کھال کی جب دباغت کر لی گئی ہو (تو اس سے بنے ہوئے مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے ) وضو کرنا یا اُس کھال سے نفع حاصل کرنا
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ ، فَأَتَيْتُ خِبَاءً فَإِذَا فِيهِ امْرَأَةٌ أَعْرَابِيَّةٌ . قَالَ : فَقُلْتُ : إِنَّ هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُرِيدُ مَاءً يَتَوَضَّأُ ، فَهَلْ عِنْدَكِ مَاءٌ ؟ قَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَاللَّهِ مَا تُظِلُّ السَّمَاءُ وَلَا تُقِلُّ الْأَرْضُ رُوحًا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رُوحِهِ ، وَلَا أَعَزَّ ، وَلَكِنَّ هَذِهِ الْقِرْبَةَ مَسْكُ مَيْتَةٍ ، وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرُحْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَإِنْ كَانَتْ دَبَغَتْهَا فَهِيَ طَهُورُهَا " . قَالَ : فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ : أَيْ وَاللَّهِ لَقَدْ دَبَغْتُهَا . فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ مِنْهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِبَعْضِهِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ ، وَفِيهِمَا كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پانی منگوایا ، میں ایک خیمے کے پاس آیا ، جس میں ایک دیہاتی عورت موجود تھی ، میں نے کہا: اللہ کے رسول ، وضو کے لیے پانی طلب کر رہے ہیں ، کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ اس عورت نے کہا: میرے ماں باپ ، اللہ کے رسول پر قربان ہوں ، اللہ کی قسم ! آسمان نے ایسی کسی روح پر سایہ نہیں کیا ، اور زمین نے اُسے اپنے اوپر نہیں اٹھایا ، جو میرے نزدیک آپ کی روح سے زیادہ پسندیدہ اور زیادہ معزز ہو ، یہ ایک مشکیزہ موجود ہے ، جو مردار کی کھال کا بنا ہوا ہے لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس کے ذریعے اللہ کے رسول کو نجس کر دوں ( سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس عورت کے پاس واپس جاؤ ، اگر اس عورت نے اس چمڑے کی دباغت کر لی تھی ، تو پھر وہ ( دباغت ) اس ( چمڑے ) کو پاک کر دے گی ، راوی بیان کرتے ہیں : میں اس عورت کے پاس گیا ، میں نے اس کے سامنے یہ بات ذکر کی ، اُس نے کہا: جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں نے اس کی دباغت کی ہے ( سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) تو میں اُس میں سے ( نبی اکرم ) کے لیے پانی لے آیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے علی بن یزید نے قاسم سے نقل کیا ہے ، ان دونوں راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور ان دونوں کو ثقہ بھی قرار دیا گیا ہے ۔