مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ وَقَوْلُهُ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں “ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں “
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ إِذَا كَانَ فِي الْفَرْجِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي النِّكَاحِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ” تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں “ ۔ یہ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے بارے نازل ہوئی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کسی بھی حالت میں عورت کے پاس جا سکتے ہو جبکہ صحبت اگلی شرمگاہ میں ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند ہمیں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نکاح سے متعلق باب میں اس نوعیت کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔