مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ وَقَوْلُهُ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں “ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں “
وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ فَقَالُوا : إِنَّ الْيَهُودَ قَالُوا : مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا كَانَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ . ¤ وَكَانَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَا يَدَعْنَ أَزْوَاجَهُنَّ يَأْتُونَهُنَّ مِنْ أَدْبَارِهِنَّ ، فَجَاؤُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلُوهُ عَنْ إِتْيَانِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ ) حَتَّى الْأَطْهَارِ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ الِاغْتِسَالَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ إِنَّمَا الْحَرْثُ مِنْ حَيْثُ الْوَلَدُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ مُسْلِمٌ - بِاخْتِصَارٍ - رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُرْدُوَانِيُّ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرما دو وہ گندگی ہے ، اور تم لوگ حیض کے دوران عورتوں سے الگ رہو “ ۔ لوگوں نے بتایا کہ یہودی یہ کہتے ہیں : جو شخص پچھلی طرف سے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے ، تو اس کا بیٹا بھینگا ہوتا ہے ، تو انصار کی خوتین اپنے شوہروں کو اپنی پچھلی طرف سے صحبت نہیں کرنے دیتی تھیں وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرما دو : وہ گندگی ہے ، اور حیض کے دوران تم لوگ عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک وہ پاک نہیں ہو جاتیں ( راوی کہتے ہیں ) : یعنی جب تک وہ طہر کی حالت میں نہیں آ جاتی ہیں اور جب وہ پاکیزگی حاصل کر لیں ( راوی کہتے ہیں : یعنی جب وہ غسل کر لیں ) تو تم ان کے ساتھ اس طریقے کے ساتھ صحبت کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجازت دی ہے بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ، اور اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے تمہاری عورتیں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) کھیت سے مراد وہ جگہ ہے جہاں پیدائش ممکن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام مسلم نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن یزید قردوانی ہے اس کے بیٹے کے علاوہ کسی اور نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔