حدیث نمبر: 10863
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ . فَقَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " . قَالَ : حَوَّلْتُ رَحْلِيَ الْبَارِحَةَ . ¤ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا ، قَالَ : فَأُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةُ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الْحَيْضَةَ وَالدُّبُرَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں کسی چیز نے ہلاکت کا شکار کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : گزشتہ رات میں نے اپنے پالان کو تبدیل کر دیا ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا راوی بیان کرتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی طرف یہ وحی نازل کی : ” تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ “ ۔ ( راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے ) کہ تم آگے کی طرف سے آؤ یا پیچھے کی طرف سے آؤ لیکن حیض کی حالت یا پچھلی شرمگاہ سے بچ کے رہنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10863
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12317) اخرجه احمد فى المسند (2703)»