کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں “ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں “
حدیث نمبر: 10860
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : إِنَّمَا أُنْزِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ رُخْصَةً فِي إِتْيَانِ الدُّبُرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ حَافِظٌ ، وَقَالَ فِيهِ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِذَاكَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی : ” تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں “ ۔ تو یہ پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنے کی رخصت تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید بن بشیر کے حوالے سے نقل کی ہے وہ حافظ ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں یہ کہا: ہے وہ اتنے پائے کا نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10860
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10861
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : أَبَعَرَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : أَبْعَرَ فُلَانٌ امْرَأَتَهُ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ الْحَارِثِ بْنِ سُرَيْجٍ الْبَقَّالِ وَهُوَ ضَعِيفٌ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ ، اس کو الٹا کر کے صحبت کی ، تو لوگوں نے کہا: فلاں شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ اس کو الٹا کر کے صحبت کی ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد حارث بن سریج بقال کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف اور کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10861
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1103)»
حدیث نمبر: 10862
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْكَرَ ذَلِكَ النَّاسُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کی لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کا سب ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اکثر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10862
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10863
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ . فَقَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " . قَالَ : حَوَّلْتُ رَحْلِيَ الْبَارِحَةَ . ¤ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا ، قَالَ : فَأُوحِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةُ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ وَاتَّقِ الْحَيْضَةَ وَالدُّبُرَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں کسی چیز نے ہلاکت کا شکار کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : گزشتہ رات میں نے اپنے پالان کو تبدیل کر دیا ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا راوی بیان کرتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی طرف یہ وحی نازل کی : ” تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ “ ۔ ( راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے ) کہ تم آگے کی طرف سے آؤ یا پیچھے کی طرف سے آؤ لیکن حیض کی حالت یا پچھلی شرمگاہ سے بچ کے رہنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10863
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12317) اخرجه احمد فى المسند (2703)»
حدیث نمبر: 10864
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلُوهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتِهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ إِذَا كَانَ فِي الْفَرْجِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي النِّكَاحِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ” تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں “ ۔ یہ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے بارے نازل ہوئی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کسی بھی حالت میں عورت کے پاس جا سکتے ہو جبکہ صحبت اگلی شرمگاہ میں ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند ہمیں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نکاح سے متعلق باب میں اس نوعیت کی کچھ احادیث گزر چکی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10864
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 10865
وَعَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ فَقَالُوا : إِنَّ الْيَهُودَ قَالُوا : مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا كَانَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ . ¤ وَكَانَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ لَا يَدَعْنَ أَزْوَاجَهُنَّ يَأْتُونَهُنَّ مِنْ أَدْبَارِهِنَّ ، فَجَاؤُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلُوهُ عَنْ إِتْيَانِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ ) حَتَّى الْأَطْهَارِ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ الِاغْتِسَالَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ إِنَّمَا الْحَرْثُ مِنْ حَيْثُ الْوَلَدُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ مُسْلِمٌ - بِاخْتِصَارٍ - رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُرْدُوَانِيُّ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرما دو وہ گندگی ہے ، اور تم لوگ حیض کے دوران عورتوں سے الگ رہو “ ۔ لوگوں نے بتایا کہ یہودی یہ کہتے ہیں : جو شخص پچھلی طرف سے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے ، تو اس کا بیٹا بھینگا ہوتا ہے ، تو انصار کی خوتین اپنے شوہروں کو اپنی پچھلی طرف سے صحبت نہیں کرنے دیتی تھیں وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرما دو : وہ گندگی ہے ، اور حیض کے دوران تم لوگ عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک وہ پاک نہیں ہو جاتیں ( راوی کہتے ہیں ) : یعنی جب تک وہ طہر کی حالت میں نہیں آ جاتی ہیں اور جب وہ پاکیزگی حاصل کر لیں ( راوی کہتے ہیں : یعنی جب وہ غسل کر لیں ) تو تم ان کے ساتھ اس طریقے کے ساتھ صحبت کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجازت دی ہے بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ، اور اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے تمہاری عورتیں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) کھیت سے مراد وہ جگہ ہے جہاں پیدائش ممکن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام مسلم نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن یزید قردوانی ہے اس کے بیٹے کے علاوہ کسی اور نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10865
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2192)»