مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ حج کے متعین مہینے میں ہیں جو ان میں حج کو لازم کر لے تو وہ رفث نہ کرے “
حدیث نمبر: 10853
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَا رَفَثَ قَالَ : الرَّفَثُ : الْجِمَاعُ . وَلَا فُسُوقَ قَالَ : الْفُسُوقُ : الْمَعَاصِي . وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ قَالَ : الْمِرَاءُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ خُصَيْفٌ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : « لا رفث » سے مراد صحبت کرنا ہے : ”« ولا فسوق » وہ فرماتے ہیں : «فسوق» سے مراد گناہ ہیں : « ولا جدال فى الحج » ۔ وہ فرماتے ہیں : ( یہاں جدال سے مراد ) جھگڑا کرنا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے ، جسے عجلی اور یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔