حدیث نمبر: 10852
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ قَالَ : " الرَّفَثُ : الْإِعْرَابُ وَالتَّعَرُّضُ لِلنِّسَاءِ بِالْجِمَاعِ ، وَالْفُسُوقُ : الْمَعَاصِي ، وَالْجِدَالُ : جِدَالُ الرَّجُلِ صَاحِبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سَوَّارِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ قُرَيْشٍ ، وَكِلَاهُمَا فِيهِ لِينٌ وَقَدْ وُثِّقَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تو حج کے دوران رفث یا فسوق یا جدال نہیں ہو گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : رفث سے مراد فحش کلامی ہے ، اور عورتوں کے ساتھ صحبت کرنا ہے فسوق سے مراد گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے ، اور جدال سے مراد آدمی کا اپنے ساتھی کے ساتھ جھگڑا کرنا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عثمان بن صالح کے حوالے سے سوار بن محمد بن قریش کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور ان دونوں راویوں میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10852
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10914)»