کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ حج کے متعین مہینے میں ہیں جو ان میں حج کو لازم کر لے تو وہ رفث نہ کرے “
حدیث نمبر: 10850
عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ذُو الْقِعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ " . ¤ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : التَّلْبِيَةُ وَالْإِحْرَامُ . ( لَا رَفَثَ ) قَالَ : غَشْيَانُ النِّسَاءِ . وَلَا فُسُوقَ : السِّبَابُ . وَلَا جِدَالَ : الْمِرَاءُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” حج کے متعین مہینے ہیں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد ذیقعدہ اور ذوالج ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” جو شخص ان مہینوں میں حج کو لازم قرار دے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد تلبیہ پڑھنا اور احرام باندھ لینا ہے ۔ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” تو رفث نہیں ہو گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد عورت کے ساتھ صحبت کرنا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اور نسوق نہیں ہو گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد بھلا کہنا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” اور جدال نہیں ہو گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اس سے مراد جھگڑا کرنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سکن ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سکن ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10851
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ : الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ قَالَ : " شَوَّالٌ وَذُو الْقِعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ مُخَارِقٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” حج کے متعین مہینے ہیں “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ( اس سے مراد ) شوال ذیقعدہ اور ذوالج ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حصین بن مخارق ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حصین بن مخارق ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10852
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ قَالَ : " الرَّفَثُ : الْإِعْرَابُ وَالتَّعَرُّضُ لِلنِّسَاءِ بِالْجِمَاعِ ، وَالْفُسُوقُ : الْمَعَاصِي ، وَالْجِدَالُ : جِدَالُ الرَّجُلِ صَاحِبَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سَوَّارِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ قُرَيْشٍ ، وَكِلَاهُمَا فِيهِ لِينٌ وَقَدْ وُثِّقَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تو حج کے دوران رفث یا فسوق یا جدال نہیں ہو گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : رفث سے مراد فحش کلامی ہے ، اور عورتوں کے ساتھ صحبت کرنا ہے فسوق سے مراد گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے ، اور جدال سے مراد آدمی کا اپنے ساتھی کے ساتھ جھگڑا کرنا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عثمان بن صالح کے حوالے سے سوار بن محمد بن قریش کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور ان دونوں راویوں میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عثمان بن صالح کے حوالے سے سوار بن محمد بن قریش کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور ان دونوں راویوں میں کمزور ہونا پایا جاتا ہے ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10853
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَا رَفَثَ قَالَ : الرَّفَثُ : الْجِمَاعُ . وَلَا فُسُوقَ قَالَ : الْفُسُوقُ : الْمَعَاصِي . وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ قَالَ : الْمِرَاءُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ خُصَيْفٌ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : « لا رفث » سے مراد صحبت کرنا ہے : ”« ولا فسوق » وہ فرماتے ہیں : «فسوق» سے مراد گناہ ہیں : « ولا جدال فى الحج » ۔ وہ فرماتے ہیں : ( یہاں جدال سے مراد ) جھگڑا کرنا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے ، جسے عجلی اور یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے ، جسے عجلی اور یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔