حدیث نمبر: 10809
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى ، وَهُوَ عَلَى فَرَسِهِ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ بُلْقِينَ ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : " هَؤُلَاءِ الْمَغْضُوبُ عَلَيْهِمْ " وَأَشَارَ إِلَى الْيَهُودِ . فَقَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : " الضَّالُّونَ " يَعْنِي النَّصَارَى . ¤ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ - أَوْ غُلَامُكَ - فُلَانٌ ، قَالَ : " بَلْ يُجَرُّ إِلَى النَّارِ فِي عَبَاءَةٍ غَلَّهَا " . ¤
محمد محی الدین

عبداللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں : انہیں ان صاحب نے یہ بات بتائی ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : آپ اس وقت وادی قری میں موجود تھے ، آپ اس وقت اپنے گھوڑے پر سوار تھے ، بلقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ سے سوال کیا ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جن پر غضب نازل ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی طرف اشارہ کیا ، اس نے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ گمراہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عیسائی لوگ تھے ، پھر ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : آپ کے فلاں غلام نے جام شہادت نوش کر لیا ہے ، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے لیکن مفہوم یہی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ اسے اس کی وجہ سے گھسیٹ کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا جو عباء اس نے خیانت کے طور پر حاصل کی تھی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10809
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (32/5)»