مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَفَاتِحَةِ الْكِتَابِ . باب: بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سورت فاتحہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10808
وَعَنْ أَبِي زَيْدٍ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ فِجَاجِ الْمَدِينَةِ ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَتَهَجَّدُ وَيَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَمَعَ حَتَّى خَتَمَهَا ، قَالَ : " مَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلُهَا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوزید رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کی کسی گلی سے گزر رہا تھا آپ نے ایک شخص کو تہجد کی نماز میں «سورة الفاتحة» کی تلاوت کرتے ہوئے سنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے ، آپ غور سے تلاوت سنتے رہے ، اس شخص نے اس سورت کو مکمل پڑھ لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قرآن میں اس جیسی کوئی اور سورت نہیں ہے “ ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔