مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَفَاتِحَةِ الْكِتَابِ . باب: بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سورت فاتحہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ أَهَرَاقَ الْمَاءَ ، فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي وَأَنَا خَلْفَهُ حَتَّى دَخَلَ رَحْلَهُ ، وَدَخَلْتُ أَنَا فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ كَئِيبًا حَزِينًا ، فَخَرَجَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ تَطَهَّرَ ، فَقَالَ : " عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، عَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَابِرٍ بِأَخْيَرِ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ ؟ " . قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " اقْرَأْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ " حَتَّى خَتَمَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابن جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے پانی بہایا تھا ( یعنی آپ قضائے حاجت کر کے آئے تھے ) میں نے عرض کی : السلام علیک یا رسول اللہ ! آپ نے مجھے جواب نہیں دیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ پر سلام ہو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ پر سلام ہو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چلتے ہوئے تشریف لے گئے میں آپ کے پیچھے تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پلان میں داخل ہوئے میں مسجد میں داخل ہو گیا ۔ پریشان اور غمگین بیٹھا ہوا تھا اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے آپ وضو کر چکے تھے آپ نے فرمایا : تم پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں ہوں تم پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں ہوں اور تم پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں ہوں پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ بن جابر کیا میں تمہیں قرآن میں موجود سب سے زیادہ بہتر سورت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم «الحمد لله رب العالمين» پڑھو ! یہاں تک کہ آپ نے پوری سورت کو پڑھ لیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔