مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ الدِّيَاتِ فِي الْأَعْضَاءِ وَغَيْرِهَا . باب: اعضاء اور دیگر کی دیتوں کا بیان
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كَانَتِ الدِّيَةُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ : أَرْبَعَةُ أَسْنَانٍ ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ حِقَّةً ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ جَذَعَةً ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ ، وَخَمْسٌ وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ . ¤ حَتَّى كَانَ عُمَرُ وَمَصَّرَ الْأَمْصَارَ ، فَقَالَ عُمَرُ : لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُونَ الْإِبِلَ ، فَتُقَوَّمُ الْإِبِلُ أُوقِيَّةً أُوقِيَّةً أَرْبَعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ . ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ فَقَالَ عُمَرُ : قَوِّمُوا الْإِبِلَ أُوقِيَّةً وَنِصْفًا ، فَكَانَتْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ . ¤ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ فَقَالَ عُمَرُ : قَوِّمُوا الْإِبِلَ فَقُوِّمَتْ ثَلَاثَ أَوَاقٍ ، فَكَانَتِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ، فَجَعَلَ عَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَعَلَى أَهْلِ الْإِبِلِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَيْ حُلَّةٍ كُلُّ حُلَّةٍ خَمْسَةُ دَنَانِيرَ ، وَعَلَى أَهْلِ الضَّأْنِ أَلْفَ ضَائِنَةٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَعِزِ أَلْفَيْ مَاعِزَةٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَيْ بَقَرَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دیت ایک سو اونٹ ہوتی تھی جو چار مختلف قسموں کی عمروں کے ہوتے تھے پچیس حقہ ہوتے تھے پچیس جذعہ ہوتے تھے پچیس بنت مخاض ہوتی تھیں اور پچیس بنت لبون ہوتی تھیں ۔ یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آ گیا اور سلطنت پھیل گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سب کے پاس اونٹ نہیں ہوتے ہیں تو ایک اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ مقرر کی گئی اور اس اعتبار سے دیت چار ہزار درہم قرار پائی ۔ پھر اونٹوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں تو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اونٹ کی قیمت کا تعین کرو اور وہ ڈیڑھ اوقیہ کرو تو اس اعتبار سے قیمت چھ ہزار درہم ہو گئی ، پھر اونٹوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں تو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اونٹوں کی قیمت کا تعین کرو تو ان کی قیمت تین اوقیہ مقرر کی گئی تو دیت بارہ ہزار درہم ہو گئی تو چاندی والوں پر بارہ ہزار کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اونٹ والوں پر ایک سو اونٹوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور سونے کی شکل میں ادائیگی کرنے والوں پر ایک ہزار دینار کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور کپڑا تیار کرنے والوں پر دو سو حلوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی جن میں سے ہر ایک حلہ پانچ دینار کا ہو اور بھیڑ والوں پر ایک ہزار بھیڑوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور بکریوں والوں پر دو ہزار بکریوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی اور گائے والوں پر دو سو گائیوں کی ادائیگی لازم قرار دی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔