حدیث نمبر: 10771
وَعَنْ عُبَادَةَ قَالَ : وَقَضَى - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي دِيَةِ الْكُبْرَى الْمُغَلَّظَةِ ثَلَاثِينَ بِنْتَ لَبُونٍ ، وَثَلَاثِينَ حِقَّةً ، وَأَرْبَعِينَ خَلِفَةً . وَقَضَى فِي الدِّيَةِ الصُّغْرَى ثَلَاثِينَ بِنْتَ لَبُونٍ ، وَثَلَاثِينَ حِقَّةً ، وَعِشْرِينَ ابْنَةَ مَخَاضٍ ، وَعِشْرِينَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ . ¤ ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ ، فَقَوَّمَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِبِلَ الدِّيَةِ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ حِسَابُ أُوقِيَّةٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ . ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الْوَرِقُ فَزَادَ عُمَرُ أَلْفَيْنِ حِسَابَ أُوقِيَّتَيْنِ لِكُلِّ بَعِيرٍ . ثُمَّ غَلَتِ الْإِبِلُ وَهَانَتِ الدَّرَاهِمُ فَأَتَمَّهَا عُمَرُ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا حِسَابَ ثَلَاثِ أَوَاقٍ لِكُلِّ بَعِيرٍ . ¤ قَالَ : فَزَادَ ثُلُثُ الدِّيَةِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، وَثُلُثًا آخَرَ فِي الْبَلَدِ الْحَرَامِ . قَالَ : فَتَمَّتِ دِيَةُ الْحَرَمَيْنِ عِشْرِينَ أَلْفًا . قَالَ : فَكَانَ يُقَالُ : يُؤْخَذُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ مِنْ مَاشِيَتِهِمْ وَلَا يُكَلَّفُونَ الْوَرِقَ ، وَلَا الذَّهَبَ ، وَيُؤْخَذُ مِنْ كُلِّ قَوْمٍ مَا لَهُمْ فِي الْعَدْلُ فِي أَمْوَالِهِمْ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ عَلَى أَبِيهِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي الْأَحْكَامِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی مغلظہ دیت کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ تیس بنت لبون تیس حقہ اور چالیس خلفہ ادا کیے جائیں گے ۔ جب کہ چھوٹی دیت میں انہوں نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ تیس بنت لبون تیس حقہ بیس بنت مخاض اور بیس بنو مخاض مذکر ادا کیے جائیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اونٹوں کی قیمتیں زیادہ ہو گئیں اور درہموں کی قیمتیں کم ہو گئیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اونٹ کی دیت کو چھ ہزار درہم کے برابر قرار دیا جس میں ہر ایک اونٹ کی قیمت ایک اوقیہ کا حساب بنتا تھا ۔ پھر اونٹوں کی قیمت زیادہ ہو گئی اور چاندی کی قیمت کم ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دو ہزار درہم کا اضافہ کر دیا جو ہر اونٹ کے لئے دو اوقیہ کا حساب بنتا ہے پھر اونٹوں کی قیمتیں اور زیادہ ہو گئیں اور درہم کی قیمت کم ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مکمل بارہ ہزار کر دیا جس میں ہر اونٹ کی قیمت تین اوقیہ بنتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حرمت والے مہینے میں ایک تہائی دیت اضافی ہو گی اور بلد حرام ( حرمت والے شہر ) میں مزید ایک تہائی زیادہ ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : حرمین کی دیت مکمل بیس ہزار ہو گی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے کہ دیہاتی علاقوں کے لوگوں سے ان کے جانور وصول کیے جائیں گے ان کو چاندی یا سونے ( درہم یا دینار ) کی شکل میں ادائیگی کا پابند نہیں کیا جائے گا اور ہر قوم سے انصاف کے مطابق ان کے مخصوص مال میں سے وصولی کی جائے گی ۔
یہ روایت عبداللہ نامی راوی نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے جو انہوں نے اپنے والد سے اضافی روایات نقل کی ہیں ، اور یہ ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے جو کتاب الاحکام میں پہلے گزر چکی ہے اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10771
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع