مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَجْنِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَلَا يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِجَرِيرَةِ غَيْرِهِ باب: کوئی شخص کسی دوسرے کے خلاف زیادتی نہیں کرے گا اور کسی شخص کو کسی دوسرے کے جرم میں پکڑا نہیں جائے گا
وَعَنْ رَجُلٍ كَانَ قَدِيمًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ كَانَ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ رَجُلًا يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ ; أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْتُبْ لِي كِتَابًا أَنْ لَا أُؤْخَذَ بِجَرِيرَةِ غَيْرِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ ذَلِكَ لَكَ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ایک صاحب جن کا تعلق بنو تمیم کے پرانے افراد میں سے ہے ۔ انہوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں ایک شخص کو اپنے والد کے حوالے سے یہ بات بتائی کہ ان کی ملاقات ( یعنی دوسرے شخص کے والد کی ملاقات ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے تحریر لکھ دیں کہ مجھے کسی دوسرے کے جرم میں نہیں پکڑا جائے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ چیز تمہیں حاصل ہے ، اور ہر مسلمان کو حاصل ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔