مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ باب: شراب نوشی کی حد کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَزْهَرَ وَالِدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِشَارِبٍ وَهُوَ بِخَيْبَرَ فَحَثَا فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ ، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَضَرَبُوهُ بِنِعَالِهِمْ ، وَبِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ حَتَّى قَالَ لَهُمْ : " ارْفَعُوا " فَرَفَعُوا ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتِلْكَ سُنَّتُهُ . ¤ ثُمَّ جَلَدَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ ، ثُمَّ جَلَدَ عُمَرُ أَرْبَعِينَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ ، ثُمَّ جَلَدَ ثَمَانِينَ فِي آخِرِ خِلَافَتِهِ ، ثُمَّ جَلَدَ عُثْمَانُ أَرْبَعِينَ ، ثُمَّ جَلَدَ مُعَاوِيَةُ ثَمَانِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِ خَالِي ، عَنْ عُقَيْلٍ . وَخَالُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سَالِمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عبدالرحمن کے والد سیدنا ازہر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی کو لایا گیا آپ اس وقت خیبر میں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے چہرے پر مٹی ڈالی پھر آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے جوتوں اور اپنے ہاتھ میں موجود چیزوں کے ذریعے اس کی پٹائی کی یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : اب ہاتھ کھینچ لو ان لوگوں نے ہاتھ اٹھا لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اس وقت تک یہی طریقہ کار رہا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے شراب نوشی کے لئے چالیس کوڑے لگوائے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں چالیس کوڑے لگوائے پھر انہوں نے اپنے عہد خلافت کے آخری دور میں اسی کوڑے لگوائے پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگوائے پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگوائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابوطاہر بن سرح کی نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے ماموں کی تحریر میں یہ بات پائی ہے کہ یہ عقیل نامی راوی سے منقول ہے ان کے ماموں کا نام عبدالرحمن بن عبدالحمید بن سالم ہے ، اور وہ ثقہ ہیں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔