حدیث نمبر: 10672
وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ; أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ ، ثُمَّ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ ، قَالَ : فَقَالَ : " الْغُبَيْرَاءُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " لَا تَطْعَمُوهُ " . ¤ ثُمَّ لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " الْغُبَيْرَاءُ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " لَا تَطْعَمُوهُ " . قَالُوا : فَإِنَّهُمْ لَا يَدَعُونَهُ ، قَالَ : " مَنْ لَمْ يَتْرُكْهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز سنتوں اور فرائض کی تعلیم دی پھر ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارا ایک مشروب ہے ، جسے ہم گندم اور جو سے بناتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا غبیراء انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے استعمال نہ کرو پھر ان لوگوں نے جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا غبیراء انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے نہ کھاؤ لوگوں نے کہا: لوگ اسے نہیں چھوڑیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو اس کو نہیں چھوڑے گا ۔ تم اس کی گردن اڑا دینا ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10672
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7147) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (242/23) أخرجه احمد فى المسند (427/6)»