مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي اللِّوَاطِ باب: قوم لوط کا سا عمل کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ ، وَزَيْدَ بْنَ حَسَنٍ يَذْكُرُونَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ فَجَرَ بِغُلَامٍ مِنْ قُرَيْشٍ مَعْرُوفِ النِّسَبِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : وَيْحَكُمْ أَيْنَ الشُّهُودُ ؟ أُحْصِنَ ؟ قَالُوا : تَزَوَّجَ بِامْرَأَةٍ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا بَعْدُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - : لَوْ دَخَلَ بِهَا لَحَلَّ عَلَيْهِ الرَّجْمُ ، فَأَمَّا إِذَا لَمْ يَدْخُلْ بِأَهْلِهِ فَاجْلِدْهُ الْحَدَّ . ¤ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ الَّذِي ذَكَرَ أَبُو الْحَسَنِ ، فَأَمَرَ بِهِ عُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَجُلِدَ مِائَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجَعْفِيُّ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤جابر نامی راوی بیان کرتے ہیں میں نے سالم بن عبداللہ اور ابان بن عثمان اور زید بن حسن کو یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ) ان کے پاس ایک ایسے شخص کو لایا گیا جس نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک لڑکے کے ساتھ بدکاری کی تھی جس کا نسب معروف تھا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہارا ستیاناس ہو گواہ کہاں ہیں کیا یہ شخص محصن ہے لوگوں نے کہا: اس شخص نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی تھی لیکن اس کی رخصتی نہیں کروائی تھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا اگر تو اس نے اس عورت کی رخصتی کروا لی ہوتی تو پھر اسے سنگسار کرنے کی سزا دی جا سکتی تھی لیکن کیونکہ اس نے اپنی بیوی کی رخصتی نہیں کروائی تو اب آپ اسے حد کے کوڑے لگوا دیں سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو جناب ابوالحسن نے نقل کی ہے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں حکم دیا تو اسے ایک سو کوڑے لگائے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے جس نے سماع کی صراحت کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔