حدیث نمبر: 10633
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَاءَتِ الْيَهُودُ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتُونِي بِأَعْلَمِ رَجُلَيْنِ فِيكُمْ " . فَأَتَوْهُ بِابْنَيْ صُورِيَا ، فَقَالَ : " أَنْتُمَا أَعْلَمُ مَنْ وَرَاءَكُمَا ؟ " . فَقَالَا : كَذَلِكَ يَزْعُمُونَ . ¤ فَنَاشَدَهُمَا بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى : " كَيْفَ تَجِدُونَ أَمْرَ هَذَيْنِ فِي تَوْرَاةِ اللَّهِ تَعَالَى ؟ " . قَالَا : نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ : إِذَا وُجِدَ الرَّجُلُ مَعَ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتٍ فَهِيَ رِيبَةٌ ، فِيهَا عُقُوبَةٌ ، وَإِذَا وُجِدَ فِي ثَوْبِهَا أَوْ عَلَى بَطْنِهَا فَهِيَ رِيبَةٌ فِيهَا عُقُوبَةٌ . فَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ نَظَرُوا إِلَيْهِ مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ رَجَمُوهُ ، فَقَالَ : " مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَرْجُمُوهُمَا ؟ " . فَقَالَا : ذَهَبَ سُلْطَانُنَا فَكَرِهْنَا الْقَتْلَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشُّهُودِ فَشَهِدُوا فَأَمَرَ بِرَجْمِهِمَا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَقَدْ صَحَّحَهَا ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں یہودی اپنے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کے آئے جنہوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے درمیان موجود دو سب سے بڑے عالموں کو میرے پاس لے کے آئے تو لوگ صوریا کے دو بیٹوں کو لے کے آپ کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اپنے پیچھے موجود افراد سے زیادہ علم رکھتے ہو انہوں نے کہا: لوگوں کا یہی سمجھنا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس اللہ کا واسطہ دیا جس نے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل کی کہ تم دونوں مرد اور عورت ) کے بارے میں اللہ کی تورات میں کیا حکم پاتے ہو ان دونوں نے یہ کہا: کہ ہم نے تورات میں یہ حکم پایا ہے کہ جب کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ کسی گھر میں پایا جائے تو ایک مشکوک صورت حال ہے اس میں سزا دی جائے گی جب کوئی شخص عورت کے کپڑے میں پایا جائے یا اس کے پیٹ پر پایا جائے تو یہ مشکوک صورت حال ہے تو اس میں سزا دی جائے گی اور جب چار افراد اس بات کی گواہی دیں کہ ان لوگوں نے مرد کو دیکھا ہے کہ جس طرح سرمہ دانی کی سلائی سرمہ دانی میں ڈالی جاتی ہے اس طرح اس نے ( اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے ) تو اسے سنگسار کر دیا جائے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا وجہ ہے تم نے ان دونوں کو سنگسار کیوں نہیں کیا ان دونوں نے کہا: ایک تو ہماری حکومت ختم ہو گئی ہے تو ہم نے قتل کرنے کو ناپسند کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بلوایا ان لوگوں نے گواہی دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں ( مرد و عورت ) کو سنگسار کرنے کا حکم دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے مجالد کے حوالے سے امام شعبی کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ابن عدی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10633
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف