حدیث نمبر: 10629
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِرَجُلٍ وُجِدَ مَعَ امْرَأَةٍ فِي لِحَافٍ فَضَرَبَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَرْبَعِينَ سَوْطًا وَأَقَامَهُمَا لِلنَّاسِ . ¤ فَذَهَبَ أَهْلُ الْمَرْأَةِ وَأَهْلُ الرَّجُلِ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ عُمَرُ لِابْنِ مَسْعُودٍ : مَا يَقُولُ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ ، قَالَ : أَوَرَأَيْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ : نِعْمَ مَا رَأَيْتَ ، فَقَالُوا : أَتَيْنَاهُ نَسْتَأْذِنُهُ ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جو ایک عورت کے ساتھ ایک لحاف میں پایا گیا تھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان دو میں سے ہر ایک کو چالیس کوڑے لگوائے ان دونوں کو لوگوں کے سامنے کھڑا کیا عورت کے گھر والے اور مرد کے گھر والے گئے انہوں نے اس بارے میں شکایت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے ایسا کیا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کیا یہ آپ کی اپنی رائے ہے انہوں نے جواب دیا جی ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ کی رائے اچھی ہے ان لوگوں نے کہا: ہم تو ان کے پاس آئے تھے تاکہ ان سے اجازت لیں اور یہ خود ان سے پوچھ رہے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10629
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح