مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ اعْتِرَافِ الزَّانِي ، وَرَجْمِ الْمُحْصَنِ باب: زانی کا اعتراف کرنا اور محصن کو سنگسار کیا جانا
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا ، وَكَانَتْ حَامِلًا ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى وَضَعَتْ ، ثُمَّ أَمَرَ فَسُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ وَرَجَمْتَهَا ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا سَبْعُونَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ ، هَلْ وَجَدَتْ أَفْضَلَ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي : لَا أَعْلَمُهُ ذُمَّ فِي الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس نے زنا کا اعتراف کیا وہ عورت حاملہ تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معاملے کو مؤخر کر دیا جب تک وہ بچے کو جنم نہیں دیتی پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا اس کے کپڑے اس کے جسم پر باندھ دیے گئے پھر آپ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں جبکہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور آپ نے اسے سنگسار بھی کروایا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر افراد نے اگر ایسی توبہ کی ہوتی تو وہ ان کی طرف سے بھی قبول ہو جاتی ہے کیا تمہیں اس سے زیادہ فضیلت والا کوئی فرد ملتا ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن أحمد بن نضر کے حوالے سے نقل کی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے أحمد بن کامل قاضی کہتے ہیں میرے علم کے مطابق اسے حدیث میں قابل مذمت قرار نہیں دیا گیا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔