مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ اعْتِرَافِ الزَّانِي ، وَرَجْمِ الْمُحْصَنِ باب: زانی کا اعتراف کرنا اور محصن کو سنگسار کیا جانا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ إِنَّهَا قَدْ زَنَتْ ، وَكَانَتْ حَامِلًا ، فَقَالَ : " انْطَلِقِي حَتَّى تَضَعِي حَمْلَكِ " . وَلَوْ لَمْ تَرْجِعْ لَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا ، فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا ثُمَّ أَتَتْهُ ، فَقَالَ : " انْطَلِقِي حَتَّى تَفْطِمِي وَلَدَكِ " . فَأَتَتْهُ ، وَلَوْ لَمْ تَأْتِهِ لَمْ يُرْسِلْ إِلَيْهَا ، فَجَاءَتْ بَعْدَ مَا فَطَمَتْهُ فَرَجَمَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اس نے عرض کی اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے وہ عورت حاملہ تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ اور پہلے حمل کو جنم دو وہ عورت نہیں آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیغام بھیج کے نہیں بلوایا پھر اس عورت نے اپنے حمل کو جنم دیا پھر وہ آپ کے پاس آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جاؤ جب تک تم اپنے بچے کا دودھ نہیں چھڑاتی ہو پھر وہ عورت آپ کے پاس آئی اگر وہ آپ کے پاس نہ آتی تو آپ نے اسے پیغام بھیج کے بلوانا نہیں تھا دودھ چھڑانے کے بعد وہ آپ کے پاس آئی تو آپ نے اسے سنگسار کروا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حارث بن نبہان ہے اور وہ متروک ہے ۔