مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ اعْتِرَافِ الزَّانِي ، وَرَجْمِ الْمُحْصَنِ باب: زانی کا اعتراف کرنا اور محصن کو سنگسار کیا جانا
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ يَتَخَطَّى النَّاسَ حَتَّى اقْتَرَبَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ . ¤ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ " فَجَلَسَ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ : " اجْلِسْ " فَجَلَسَ ثُمَّ قَامَ فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ . فَقَالَ : " وَمَا حَدُّكَ ؟ " . قَالَ : أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَالْعَبَّاسُ ، وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ : " انْطَلِقُوا بِهِ فَاجْلِدُوهُ مِائَةَ جَلْدَةٍ " . ¤ وَلَمْ يَكُنِ اللَّيْثِيُّ تَزَوَّجَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَجْلِدُ الَّتِي خَبَثَ بِهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتُونِي بِهِ مَجْلُودًا " . فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ ، قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَاحِبَتُكَ ؟ " . قَالَ : فُلَانَةٌ - امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي بَكْرٍ - فَأُتِيَ بِهَا فَسَأَلَهَا ، فَقَالَتْ : كَذَبَ وَاللَّهِ ، مَا أَعْرِفُهُ ، وَإِنِّي مِمَّا قَالَ لَبَرِيئَةٌ ، وَاللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ مِنَ الشَّاهِدِينَ . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَهِدَ عَلَى أَنَّكَ خَبَثْتَ بِهَا ، فَإِنَّهَا تُنْكِرُ فَإِنْ كَانَ لَكَ شُهَدَاءُ جَلَدْتُهَا حَدًّا وَإِلَّا جَلَدْنَاكَ حَدَّ الْفِرْيَةِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي مَنْ يَشْهَدُ . فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضٍ ، وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے بنولیث بن بکر بن عبدمناد بن کنانہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ لوگوں کی گردنیں پھیلانگتا ہوا آپ کے پاس آ گیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر حد قائم کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ گیا پھر وہ دوسری مرتبہ کھڑا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ پھر وہ تیسری مرتبہ کھڑا ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مانند ارشاد فرمایا آپ نے دریافت کیا تمہاری حد کیا ہے اس نے بتایا میں نے حرام طور پر ایک عورت کے ساتھ صحبت کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے ایک صاحب سے فرمایا ان اصحاب میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے اسے ساتھ لے جاؤ اور اسے ایک سو کوڑے لگاؤ اس لیثی شخص نے بھی شادی نہیں کی تھی لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ اس عورت کو کوڑے نہیں لگوائیں گے جس کے ساتھ اس نے زنا کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اسے کوڑے لگا کے میرے پاس لے کے آؤ جب اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم نے کس کے ساتھ ایسا کیا تھا اس نے بنو بکر سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کا نام لے کے کہا: کہ فلاں عورت کے ساتھ اس عورت کو لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم یہ جھوٹ بول رہا ہے میں اسے نہیں جانتی ہوں اور اس نے جو الزام لگایا ہے میں اس سے لاتعلق ہوں اور میں جو کہہ رہی ہوں اس بات پر گواہ اللہ تعالیٰ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کون شخص اس بات کی گواہی دے گا کہ تم نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے یہ تو انکار کر رہی ہے اگر تمہارے پاس گواہ ہیں تو ہم اس عورت کو حد کے طور پر کوڑے لگائیں گے ورنہ ہم تمہیں زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی وجہ سے کوڑے لگائیں گے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے حق میں گواہی کون دے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو زنا کا الزام لگانے کی حد میں اسی کوڑے لگائے گئے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن فیاض ہے جسے امام ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔