مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ اعْتِرَافِ الزَّانِي ، وَرَجْمِ الْمُحْصَنِ باب: زانی کا اعتراف کرنا اور محصن کو سنگسار کیا جانا
عَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا ، فَجَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ مَرَّةً فَرَدَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ الثَّانِيَةَ فَرَدَّهُ ، ثُمَّ جَاءَ فَاعْتَرَفَ الثَّالِثَةَ فَرَدَّهُ . ¤ فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّكَ إِنِ اعْتَرَفْتَ الرَّابِعَةَ رَجَمَكَ ، قَالَ : فَاعْتَرَفَ الرَّابِعَةَ فَحَبَسَهُ ، ثُمَّ سَأَلَ عَنْهُ ، قَالُوا : مَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا ، قَالَ : فَأَمَرَ بِرَجْمِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَدَّ مَاعِزًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهِ . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . وَفِي أَسَانِيدِهِمْ كُلِّهَا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجَعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا سیدنا مالک بن ماعز رضی اللہ عنہ آیا اس نے آپ کے سامنے ایک مرتبہ اعتراف کیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا وہ پھر آیا اس نے آپ کے سامنے دوسری مرتبہ اعتراف کیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا وہ پھر آیا اس نے تیسری مرتبہ اعتراف کیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا میں نے اس سے کہا: اگر تم نے چوتھی مرتبہ بھی اعتراف کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں سنگسار کروا دیں گے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس نے چوتھی مرتبہ بھی اعتراف کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قید کروا دیا پھر آپ نے اس کے بارے میں تحقیق کی تو لوگوں نے بتایا کہ ہمیں تو صرف بھلائی کا علم ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دے دیا ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ان کی روایت کے یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کو چار مرتبہ واپس کیا تھا اور پھر انہیں سنگسار کرنے کا حکم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں تین مرتبہ واپس کیا تھا ۔ ان تمام روایات کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔