حدیث نمبر: 10588
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - قَالَ : نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ ، وَنَحْنُ حَوْلَهُ ، وَكَانَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَعْرَضَ عَنَّا ، وَأَعْرَضْنَا عَنْهُ ، وَتَرَبَّدَ وَجْهُهُ ، وَكُرِبَ لِذَلِكَ . ¤ فَلَمَّا رُفِعَ عَنْهُ الْوَحْيُ ، قَالَ : " خُذُوا عَنِّي " . قُلْنَا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا : الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ ، وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ الرَّجْمُ " . ¤ قَالَ الْحَسَنُ : فَلَا أَدْرِي أَمِنَ الْحَدِيثِ هُوَ أَمْ لَا ؟ قَالَ : " فَإِنْ شَهِدُوا أَنَّهُمَا وُجِدَا فِي لِحَافٍ لَا يَشْهَدُونَ عَلَى جِمَاعٍ خَالَطَهَا بِهِ ، جُلِدُوا مِائَةً وَجُزَّتْ رُؤُوسُهُمَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی ” تمہاری عورتوں میں سے جو برائی کا ارتکاب کریں “ یہ آیت کے آخر تک ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کے ساتھ ایسا ہی کیا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ہم آپ کے ارد گرد تھے جب آپ پر وحی نازل نازل ہوتی تھی تو آپ ہماری طرف سے توجہ ہٹا لیتے تھے اور ہم بھی آپ کو مخاطب نہیں کرتے تھے آپ کے چہرہ مبارک کی حالت تبدیل ہو جاتی تھی اور آپ کو اس سے دقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا جب وحی کی کیفیت ختم ہو گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا مجھ سے حکم حاصل کر لو ہم نے عرض کی ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسی خواتین کے لئے حکم مقرر کر دیا ہے اگر کنوارہ لڑکا کنواری لڑکی کے ساتھ زنا کرے تو اسے ایک سو کوڑے لگائیں جائیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی ہو گی اور اگر شادی شدہ شخص شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کرے تو انہیں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور پھر سنگسار کیا جائے گا “ ۔ حسن نامی راوی کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ کیا
یہ روایت کا حصہ ہے یا نہیں ہے آپ نے فرمایا : ” اگر لوگ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ دونوں ایک لحاف میں پائے گئے ہیں اور ان کی صحبت کے بارے میں گواہی نہیں دیتے تو پھر انہیں ایک سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ان کے سر مونڈوا دیے جائیں گے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10588
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (313/5)»