حدیث نمبر: 10587
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ . قَالَ : كُنَّ يُحْبَسْنَ فِي الْبُيُوتِ فَإِذَا مَاتَتْ مَاتَتْ ، وَإِنْ عَاشَتْ عَاشَتْ ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي النُّورِ : الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ . وَنَزَلَتْ سُورَةُ الْحُدُودِ فَمَنْ عَمِلَ شَيْئًا جُلِدَ وَأُرْسِلَ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَيَأْتِي حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي سُورَةِ النُّورِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تمہاری عورتوں میں سے جو برائی کا ارتکاب کرتی ہیں “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں پہلے ان عورتوں کو گھروں میں بند کر دیا جاتا تھا اگر کوئی مر جاتی تھی تو مر جاتی تھی زندہ رہتی تھی تو زندہ رہتی تھی یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی جو سورت نور میں ہے ” زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ “ پھر حدود کے حکم سے متعلق حکم نازل ہو گیا تو جو شخص کوئی عمل کرتا تھا اسے کوڑے لگائے جاتے تھے اور چھوڑ دیا جاتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن عبداللہ بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث سورت نور میں آگے آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10587
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11134)»