مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ . باب: پانی کے ذریعے استنجاء کرنا
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : لَقَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْنَا - يَعْنِي قُبَاءَ - فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ فِي الطَّهُورِ خَيْرًا ، أَفَلَا تُخْبِرُونِي ؟ " قَالَ : يَعْنِي قَوْلَهُ : ( فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ) . قَالَ : فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَجِدُهُ مَكْتُوبًا عَلَيْنَا فِي التَّوْرَاةِ - يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ بِالْمَاءِ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، وَلَمْ يَقُلْ : عَنْ أَبِيهِ ، كَمَا قَالَ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرٌ أَيْضًا . ¤محمد بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، اُن کی مراد یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے طہارت کے حوالے سے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے ، کیا تم مجھے اس کے بارے میں نہیں بتاؤ گے ؟ ( کہ تم لوگوں کا طہارت کا مخصوص طریقہ کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تھا : ” اُس میں ایسے افراد ہیں ، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں ، اور اللہ تعالٰی اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ راوی بیان کرتے ہیں : تو اُن لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے اس چیز کو پایا تھا ، کہ تورات میں اسے ہم پر لازم قرار دیا گیا ۔ ان لوگوں کی مراد ، پانی کے ذریعے استنجاء کرنا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، محمد بن عبداللہ بن سلام کے حوالے سے نقل ہے ، انہوں نے اس کی سند میں یہ الفاظ نقل نہیں کیے کہ یہ ان کے والد ( سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے منقول ہے ، جیسا کہ امام طبرانی نے نقل کیا ہے ، اس روایت کی سند میں شہر نامی راوی ہے ( جو ضعیف ہے ) ۔