مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ . باب: پانی کے ذریعے استنجاء کرنا
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَهْلَ قُبَاءَ ، مَا هَذَا الطَّهُورُ الَّذِي قَدْ خُصِّصْتُمْ بِهِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ : ( فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ) . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مِنَّا أَحَدٌ يَخْرُجُ مِنَ الْغَائِطِ إِلَّا غَسَلَ مَقْعَدَتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شَهْرٌ أَيْضًا . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” اے اہل قباء ! طہارت کے حصول کا وہ مخصوص طریقہ کیا ہے ؟ جس کی وجہ سے اس آیت میں بطور خاص تمہارا ذکر کیا گیا ہے : ” اس ( مسجد ) میں ایسے افراد ہیں ، جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ اچھی طرح سے طہارت حاصل کریں ، اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے جو بھی شخص پاخانہ کرتا ہے ، تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھو لیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی شہر نامی راوی ہے ۔