حدیث نمبر: 1057
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ الْمَسْجِدَ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مَسْجِدَ قُبَاءَ ، فَقَامَ عَلَى بَابِهِ فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ ، فَمَا طَهُورَكُمْ ؟ " قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَهْلُ كِتَابٍ ، وَنَجِدُ الِاسْتِنْجَاءَ عَلَيْنَا بِالْمَاءِ ، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ الْيَوْمَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَّنَاءَ فِي الطَّهُورِ ، فَقَالَ : ( فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَقَدِ اخْتَلَفُوا فِيهِ ، وَلَكِنَّهُ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَيَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن عبداللہ بن سلام ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد میں یعنی مسجد قباء میں تشریف لائے ، جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ، آپ اس کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے طہارت کے حوالے سے ، تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے تو طہارت کے حصول کے لیے تم لوگوں کا طریقہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم اہل کتاب تھے ، تو پانی کے ذریعے استنجاء کرنا اپنے اوپر لازم قرار دیتے تھے ، اور اب بھی ہم ایسا ہی کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : طہارت کے حوالے سے ، اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی تعریف بیان کی ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اُس میں ایسے لوگ ہیں ، جو اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے کو پسند کرتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ اچھی طرح سے طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جس کے بارے میں محدثین نے اختلاف کیا ہے ، تاہم امام أحمد ، یحییٰ بن معین ، ابوزرعہ اور یعقوب بن شیبہ نے اسے ثقہ قرار دیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1057
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔