حدیث نمبر: 10570
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ أُخْتٌ فَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آذَتْهُ فِيهِ ، وَشَتَمَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ مُشْرِكَةً ، فَاشْتَمَلَ لَهَا يَوْمًا عَلَى السَّيْفِ ثُمَّ أَتَاهَا فَوَضَعَهُ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا . ¤ فَقَامَ بَنُوهَا فَصَاحُوا ، وَقَالُوا : قَدْ عَلِمْنَا مَنْ قَتَلَهَا ، أَفَتُقْتَلُ أُمُّنَا ؟ وَهَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَهُمْ آبَاءٌ وَأُمَّهَاتٌ مُشْرِكُونَ ، فَلَمَّا خَافَ عُمَيْرٌ أَنْ يَقْتُلُوا غَيْرَ قَاتِلِهَا ، ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " أَقَتَلْتَ أُخْتَكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " وَلِمَ ؟ " قَالَ : إِنَّهَا كَانَتْ تُؤْذِينِي فِيكَ ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَنِيهَا فَسَأَلَهُمْ فَسَمَّوْا غَيْرَ قَاتِلِهَا ، فَأَخْبَرَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِ وَأَهْدَرَ دَمَهَا قَالُوا سَمْعًا وَطَاعَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ تَابِعِيَّيْنِ أَحَدُهُمَا ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمیر بن امیہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کی ایک بہن تھی جب وہ صاحب نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے گئے ، تو اس عورت نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اذیت پہنچانا شروع کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہنا شروع کیا کیونکہ وہ عورت مشرک تھی ایک دن انہوں نے تلوار اٹھائی پھر وہ اس عورت کے پاس آئے انہوں نے وہ تلوار اس عورت پر رکھ کر اسے قتل کر دیا اس عورت کے بچے کھڑے ہوئے ، اور چیخنے لگے انہوں نے کہا: ہمیں پتہ ہے ، جس نے اس کو قتل کیا ہے آپ نے ہماری والدہ کو قتل کرنا تھا حالانکہ یہ دوسرے لوگ بھی ہیں ، جن کے باپ اور مائیں مشرک ہیں ( ان میں سے تو کسی نے اپنے رشتے دار کو قتل نہیں کیا ) جب سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ اس عورت کے اصل قاتل کی بجائے کسی اور کو وہ لوگ قتل کر دیں گے ، تو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی بہن کو قتل کر دیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں انہوں نے عرض کی : وہ آپ کی ذات کے حوالے سے مجھے اذیت دیتی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بیٹوں کو پیغام بھیجا اور ان سے دریافت کیا : تو ان لوگوں نے اصل قاتل کی بجائے کسی اور کا نام لیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا اور اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دیا ، تو اس عورت کے بیٹوں نے کہا: ہم اس حکم کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو تابعین کے حوالے سے نقل کی ہے جن میں سے ایک ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (64/17)»