مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَنْ سَبَّ نَبِيًّا أَوْ غَيْرَهُ باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی نبی کو یا اس کے علاوہ کسی اور کو برا کہے
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَنَّ عَرَفَةَ بْنَ الْحَارِثِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، وَقَاتَلَ مَعَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ بِالْيَمَنِ فِي الرِّدَّةِ - مَرَّ بِهِ نَصْرَانِيٌّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ ، يُقَالُ لَهُ : الْمَنْدَقُونُ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَذَكَرَ النَّصْرَانِيُّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَنَاوَلَهُ ، فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : قَدْ أَعْطَيْنَاهُمُ الْعَهْدَ . ¤ فَقَالَ عَرَفَةُ : مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ تَكُونَ الْعُهُودُ وَالْمَوَاثِيقُ عَلَى أَنْ يُؤْذُونَا فِي اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاهُمْ عَلَى أَنْ يُخَلَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ كَنَائِسِهِمْ ، فَيَقُولُونَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُمْ ، وَأَنْ لَا نُحَمِّلَهُمْ مَا لَا طَاقَةَ لَهُمْ بِهِ ، وَأَنْ نُقَاتِلَ مِنْ وَرَائِهِمْ ، وَيُخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ أَحْكَامِهِمْ إِلَّا أَنْ يَأْتُونَا فَنَحْكُمَ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : صَدَقْتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤کعب بن علقمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عرفہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ انہوں نے سیدنا عکرمہ بن ابوجہل رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر یمن میں مرتدین کے ساتھ جنگ کی تھی ایک مرتبہ مصر سے تعلق رکھنے والا ایک عیسائی ان کے پاس سے گزرا ، جس کا نام مندقون تھا ۔ انہوں نے اسے اسلام کی دعوت دی اس عیسائی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی یہ معاملہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ان لوگوں کو عہد دے چکے ہیں کہ تو سیدنا عرفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بات سے اللہ کی پناہ ہے کہ یہ عہد اور میثاق اس چیز کے بارے میں ہو کہ وہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں اذیت پہنچائیں ہم نے انہیں عہد اس چیز کا دیا ہے کہ ہم انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں گے وہ اپنی عبادت گاہوں میں جو مناسب سمجھیں کریں اور انہیں کسی ایسی چیز کا پابند نہیں کریں گے ، جس کی ان میں طاقت نہ ہو ، اور ہم ان کی خاطر جنگ کریں گے ، اور ان کے اور ان کے مذہبی احکام کے بارے میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے ، البتہ جب وہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے ، تو ہم ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ دیں گے ، جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے ، تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔