حدیث نمبر: 10555
وَعَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْقُرَشِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ، فَقَالَ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ ، إِنَّ أَهْلَ الطَّفِّ لَا يُؤَدُّونَ زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ ، فَقَالَ : وَمَا كَانَ ؟ قَالَ : قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُ الْأَمِيرَ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ ، فَقَالَ : مَا اسْمُكَ ؟ قَالَ : فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ ، فَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ شُرَطَتِهِ فَقَالَ : ابْعَثْ إِلَى عَبْدِ الْقَيْسِ فَسَلْ عَنْ فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيهِمْ ، فَرَجَعَ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : وَجَدْتُهُ يُغْمَزُ فِي حَسَبِهِ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَبْغِي عَلَى النَّاسِ ، إِلَّا وَلَدُ بَغْيٍ ، وَإِلَّا مَنْ فِيهِ عِرْقٌ مِنْهُ " . ¤ وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ : " لَا يَسْعَى " بَدَلَ : " لَا يَبْغِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأَبُو الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوولید قرشی بیان کرتے ہیں : میں بلال بن ابوبردہ کے پاس موجود تھا عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے طف کے رہنے والے لوگ اپنے اموال کی زکوۃ ادا نہیں کرتے ہیں انہوں نے فرمایا : پھر کیا ہوا اس نے کہا: آپ یہ بات جانتے ہیں میں نے تو امیر کو اطلاع دی ہے ۔ انہوں نے کہا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اُس نے کہا: عبدالقیس قبیلے سے انہوں نے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے اس نے بتایا : فلاں بن فلاں ہے ، تو بلال بن ابوبردہ نے اس کے علاقے کے کوتوال کو خط لکھا ، اور فرمایا : تم عبدالقیس قبیلے کی طرف کسی کو بھیج کر ان سے فلاں بن فلاں کے بارے میں دریافت کرو کہ ان کے درمیان اُس کا حسب کیسا ہے قاصد واپس آیا تو اس نے بتایا : میں نے یہ چیز پائی کہ اس شخص کے حسب پر نکتہ چینی کی جاتی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ اکبر ! میرے والد نے میرے دادا سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کے خلاف ( پوشیدہ امور ) کی تلاش صرف وہ کرے گا ، جو زنا کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو یا جس میں اس کا کچھ اثر ہو “ ۔ ابوالولید نامی راوی نے لا یبغی کی جگہ لفظ لا یعسی ( یعنی کوشش کرے گا ) کا لفظ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ولید قرشی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف