مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا باب: زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کا بیان
وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَفْشُ فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا ، فَإِذَا فَشَا فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا ، فَأَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ ، مُتَمَاسِكٌ أَمْرُهَا مَا لَمْ يَظْهَرْ . . . . " . وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاحِ ، فَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ أَوْ حَسَنٌ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت اس وقت تک بھلائی پر گامزن رہے گی جب تک ان کے درمیان زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے نہیں پھیل جائیں گے جب ان کے درمیان زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے پھیل جائیں گے ، تو عنقریب اللہ تعالیٰ ان سب کو عمومی عذاب دے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میری امت مسلسل بھلائی پر گامزن رہے گی اور وہ اپنے معاملے کو تھام کے رکھے گی جب تک ( ان کے درمیان زنا کرنے والے بچے ) ظاہر نہیں ہوں گے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن لبیبہ ہے ۔ جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ، جس نے سماع کی صراحت کی ہے ، تو یہ حدیث صحیح یا حسن ہے ۔