مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يُقَالُ لِمَنْ أَصَابَ ذَنْبًا باب: جس شخص نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہو اسے کیا کہا جائے گا ؟
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : ¤ إِذَا رَأَيْتُمْ أَخَاكُمْ قَارَفَ ذَنْبًا فَلَا تَكُونُوا أَعْوَانًا لِلشَّيْطَانِ عَلَيْهِ ، تَقُولُونَ : اللَّهُمَّ أَخْزِهِ ، اللَّهُمَّ الْعَنْهُ ، وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، فَإِنَّا كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُنَّا لَا نَقُولُ فِي أَحَدٍ شَيْئًا حَتَّى نَعْلَمَ عَلَامَ يَمُوتُ ، فَإِنْ خُتِمَ لَهُ بِخَيْرٍ عَلِمْنَا أَنَّهُ أَصَابَ خَيْرًا ، وَإِنْ خُتِمَ لَهُ بِشَرٍّ خِفْنَا عَلَيْهِ عَمَلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب تم اپنے بھائی کو دیکھو جو گناہ کا ارتکاب کرنے لگا ہو ، تو اس کے خلاف شیطان کے مدد گار نہ بن جاؤ کہ تم یہ کہو کہ اے اللہ تو اسے رسوا کر دے اے اللہ تو اس پر لعنت کر بلکہ تم لوگ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو کیونکہ ہم یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کسی بھی شخص کے بارے میں کوئی رائے نہیں دیتے تھے جب تک ہمیں یہ پتہ نہیں چل جاتا تھا کہ وہ کس حال میں مرا ہے اگر اس کا خاتمہ خیر کے ساتھ ہوا ہوتا اگر ہمیں یہ علم ہو جاتا کہ اس نے بھلائی کا ارتکاب کیا ہے ، اور اگر اس کا خاتمہ برائی کے ساتھ ہوتا تھا تو ہمیں اس کے عمل کے حوالے سے اس کی ذات کے بارے میں اندیشہ ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔