حدیث نمبر: 10457
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ الْحَسَنِ وَجَارِيَةٌ تَحُتُّ شَيْئًا مِنْ حِنَّاءٍ عَنْ أَظَافِرِهِ فَجَاءَتْهُ أَضْبَارَةٌ مِنْ كُتُبٍ ، فَقَالَ : يَا جَارِيَةُ ، هَاتِي الْمِخْضَبَ ، فَصَبَّ فِيهِ مَاءً ، وَأَلْقَى الْكُتُبَ فِي الْمَاءِ ، فَلَمْ يَفْتَحْ مِنْهَا شَيْئًا وَلَمْ يَنْظُرْ إِلَيْهِ . فَقُلْتُ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، مِمَّنْ هَذِهِ الْكُتُبُ ؟ قَالَ : مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ مِنْ قَوْمٍ لَا يَرْجِعُونَ إِلَى حَقٍّ ، وَلَا يَقْصُرُونَ عَنْ بَاطِلٍ ، أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَخْشَاهُمْ عَلَى نَفْسِي ، وَلَكِنِّي أَخْشَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ ، وَأَشَارَ إِلَى الْحُسَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

یزید بن اصم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکلا اس وقت ایک لڑکی ان کے ناخنوں سے مہندی کھرچ رہی تھی ان کے پاس تحریروں کا ایک گٹھہ آیا تو انہوں نے فرمایا : اے لڑکی بڑا برتن لاؤ اور اس میں پانی ڈال کے لاؤ پھر انہوں نے وہ تحریریں پانی میں ڈلوا دیں انہوں نے اس میں سے کسی کو کھولا بھی نہیں ، اور اس کو دیکھا بھی نہیں میں نے کہا: اے ابومحمد یہ تحریریں کن کی طرف سے ہیں انہوں نے جواب دیا : اہل عراق کی طرف سے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اہل حق کی طرف رجوع نہیں کرتے ہیں ، اور باطل میں کمی نہیں کرتے ہیں مجھے اپنی ذات کے حوالے سے ان کی طرف سے اندیشہ نہیں ہے لیکن مجھے اس کے حوالے سے ان لوگوں سے اندیشہ ہے ۔ امام حسن نے امام حسین کی طرف سے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن حکیم بن ابوزیاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10457
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2691)»