مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ حُبِّ الْخَوَارِجِ وَالرُّكُونِ إِلَيْهِمْ باب: خوارج سے محبت کرنے اور ان کی طرف جھکاؤ رکھنے کی ممانعت
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ أَنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِبَشَرَةِ جَبْهَتِهِ ، وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ ، فَنَبَتَتْ شَعْرَةٌ فِي جَبْهَتِهِ كَهْلَبَةُ الْفَرَسِ . وَشَبَّ الْغُلَامُ ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْخَوَارِجِ أَحَبَّهُمْ ; فَسَقَطَتِ الشَّعْرَةُ عَنْ جَبْهَتِهِ ، فَأَخَذَهُ أَبُوهُ فَقَيَّدَهُ وَحَبَسَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ بِهِمْ ، قَالَ : فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ ، فَوَعَظْنَاهُ وَقُلْنَا لَهُ فِيمَا نَقُولُ : أَلَمْ تَرَ إِلَى بَرَكَةِ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْهَتِكَ ؟ فَمَا زِلْنَا بِهِ حَتَّى رَجَعَ عَنْ رَأْيِهِمْ ، فَرَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ الشَّعْرَةَ بَعْدُ فِي جَبْهَتِهِ وَتَابَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوطفیل بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا بیٹا پیدا ہوا وہ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی کی جلد کو پکڑا اور پھر اس کے لئے دعائے برکت کی تو اس کی پیشانی پر کچھ بال یوں اگ گئے جیسے گھوڑے کی گردن پر ہوتے ہیں پھر وہ لڑکا بڑا ہو گیا جب خوارج کا زمانہ آیا تو وہ خوارج سے محبت رکھنے لگا ، تو اس کی پیشانی سے وہ بال گر گئے اس کے باپ نے اسے پکڑا اور اسے قید کر دیا اسے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ لڑکا خوارج کے ساتھ جا کے نہ ملے راوی کہتے ہیں : ہم اس کے پاس گئے ہم نے اسے وعظ ونصیحت کی ہم نے جو اسے باتیں کیں اس میں ہم نے یہ بھی کہا: کہ کیا تم نے اس بات پے غور نہیں کیا کہ اللہ کے رسول کی دعا کی برکت تمہارے چہرے سے گر گئی ہے ہم مسلسل اسے تلقین کرتے رہے ، یہاں تک کہ اس نے خوارج کی رائے سے رجوع کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے بعد میں اس کی پیشانی پر دوبارہ بال لوٹا دیے جب اس نے توبہ کر لی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔