حدیث نمبر: 10455
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، هَلْ تَدْرِي كَيْفَ حُكْمُ اللَّهِ فِي مَنْ بَغَى مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " لَا يُجْهَزُ عَلَى جَرِيحِهَا ، وَلَا يُقْتَلُ أَسِيرُهَا ، وَلَا يُطْلَبُ هَارِبُهَا ، وَلَا يُطْلَبُ فَيْؤُهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ . قُلْتُ : وَفِيهِ كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے ابن ام عبد ! کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ اس امت میں سے جو بغاوت کرے گا ؟ اس کے بارے میں اللہ کا حکم کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُن کے زخمیوں کی تیار داری نہیں کی جائے گی اُن کے قیدیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا ، اُن کے بھاگنے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا ، اور اُن کا مال غنیمت تقسیم نہیں کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی کوثر بن حکیم ہے ، اور وہ ضعیف اور متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10455
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1849)»