مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
بَابُ الْحُكْمِ فِي الْبُغَاةِ وَالْخَوَارِجِ وَقِتَالِهِمْ باب: باغیوں اور خارجیوں کے بارے میں ثالث مقرر کرنا اور ان کے ساتھ جنگ کرنا
عَنْ كَثِيرِ بْنِ نَمِرٍ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْكُوفَةِ عَشِيَّةَ جُمُعَةٍ وَعَلِيٌّ يَخْطُبُ النَّاسَ ، فَقَامُوا فِي نَوَاحِي الْمَسْجِدِ يَحْكُمُونَ ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا ، ثُمَّ قَالَ : كَلِمَةُ حَقٍّ يُبْتَغَى بِهَا بَاطِلٌ ، حُكْمَ اللَّهِ أَنْتَظِرُ فِيكُمْ ، أَحْكُمُ فِيكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقْسِمُ بَيْنَكُمْ بِالسَّوِيَّةِ ، وَلَا نَمْنَعُكُمْ مِنْ هَذَا الْمَسْجِدِ أَنْ تُصَلُّوا فِيهِ مَا كَانَتْ أَيْدِيكُمْ مَعَ أَيْدِينَا ، وَلَا نُقَاتِلُكُمْ حَتَّى تُقَاتِلُونَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ : مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤کثیر بن نمر بیان کرتے ہیں : جمعہ کی شام میں مسجد کوفہ میں داخل ہوا ، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے ، اور لوگ مسجد کے نواحی حصوں میں بھی کھڑے ہوئے تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے یہ اشارہ کر کے ارشاد فرمایا : ” بات ٹھیک ہے ، لیکن اُس کے ذریعے باطل مراد لیا جا رہا ہے ، اللہ تعالیٰ کا حکم میں تمہارے درمیان جاری کرنا چاہتا ہوں ، اور میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق فیصلہ دوں گا ، اور میں تمہارے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم کروں گا ، میں تم لوگوں کو اس مسجد میں نماز ادا کرنے سے نہیں روکوں گا ، جب تک تمہارے ہاتھ ہمارے ہاتھوں کے ساتھ رہیں گے ، اور ہم تمہارے ساتھ اُس وقت تک جنگ نہیں کریں گے ، جب تک تم ہمارے ساتھ جنگ نہیں کرو گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔