مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِي الثُّدَيَّةِ وَأَهْلِ النَّهْرَوَانِ باب: ذوثدیہ اور اہل نہروان کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُدَيْسٍ الْبَلَوِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " يَخْرُجُ أُنَاسٌ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يُقْتَلُونَ بِجَبَلِ لُبْنَانَ أَوْ بِجَبَلِ الْخَلِيلِ " . ¤ قَالَ ابْنُ لَهِيعَةَ : فَقُتِلَ ابْنُ عُدَيْسٍ بِجَبَلِ لُبْنَانَ أَوْ بِجَبَلِ الْخَلِيلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ ، وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَالِ ، وَقَدْ ضُعِّفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن عدیس بلوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کچھ لوگ نکلیں گے ، جو دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے انہیں جبل لبان ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جبل خلیل کے پاس قتل کیا جائے گا “ ۔ ابن لہیعہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن عدیس کو جبل لبان یا شاید جبل کے خلیل کے پاس شہید کیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ مقارب الحال ہے اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث یا صحیح ہوتی ہے ۔