مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِي الثُّدَيَّةِ وَأَهْلِ النَّهْرَوَانِ باب: ذوثدیہ اور اہل نہروان کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جُنْدَبٍ قَالَ : ¤ لَمَّا فَارَقَتِ الْخَوَارِجُ عَلِيًّا خَرَجَ فِي طَلَبِهِمْ ، وَخَرَجْنَا مَعَهُ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى عَسْكَرِ الْقَوْمِ ، وَإِذَا لَهُمْ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ، وَإِذَا فِيهِمْ أَصْحَابُ الثَّفِنَاتِ ، وَأَصْحَابُ الْبَرَانِسِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ دَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ شِدَّةٌ ، فَتَنَحَّيْتُ فَرَكَزْتُ رُمْحِي ، وَنَزَلْتُ عَنْ فَرَسِي ، وَوَضَعْتُ بُرْنُسِي ، فَنَثَرْتُ عَلَيْهِ دِرْعِي ، وَأَخَذْتُ بِمِقْوَدِ فَرَسِي ، فَقُمْتُ أُصَلِّي إِلَى رُمْحِي ، وَأَنَا أَقُولُ فِي صَلَاتِي : اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ قِتَالُ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَكَ طَاعَةً فَأْذَنْ لِي فِيهِ ، وَإِنْ كَانَ مَعْصِيَةً فَأَرِنِي بَرَاءَتَكَ . قَالَ : فَإِنَّا كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا حَاذَانِي ، قَالَ : تَعَوَّذْ بِاللَّهِ ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ يَا جُنْدَبُ مِنْ شَرِّ الشَّكِّ ، فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَيْهِ ، وَنَزَلَ فَقَامَ يُصَلِّي ، إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَى بِرْذَوْنٍ يَقْرُبُ بِهِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : أَلَكَ حَاجَةٌ فِي الْقَوْمِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَدْ قَطَعُوا النَّهْرَ . قَالَ : مَا قَطَعُوهُ ؟ قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ . ثُمَّ جَاءَ آخَرُ أَرْفَعُ مِنْهُ فِي الْجَرْيِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : مَا تَشَاءُ ؟ قَالَ : أَلَكَ حَاجَةٌ فِي الْقَوْمِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَدْ قَطَعُوا النَّهْرَ ، فَذَهَبُوا ، قُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ عَلِيٌّ : مَا قَطَعُوهُ . ¤ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ يَسْتَحْضِرُ بِفَرَسِهِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : مَا تَشَاءُ ؟ قَالَ : أَلَكَ حَاجَةٌ فِي الْقَوْمِ ؟ قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَدْ قَطَعُوا النَّهْرَ ، قَالَ : مَا قَطَعُوهُ وَلَا يَقْطَعُوهُ ، وَلَيُقْتَلُنَّ دُونَهُ ، عَهْدٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ . ¤ قُلْتُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، ثُمَّ قُمْتُ فَأَمْسَكْتُ لَهُ بِالرِّكَابِ ، فَرَكِبَ فَرَسَهُ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى دِرْعِي فَلَبِسْتُهَا ، وَإِلَى قَوْسِي فَعَلَّقْتُهَا ، وَخَرَجْتُ أُسَايِرُهُ . فَقَالَ لِي : يَا جُنْدَبُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَالَ : أَمَّا أَنَا ، فَأَبْعَثُ إِلَيْهِمْ رَجُلًا يَقْرَأُ الْمُصْحَفَ ، يَدْعُو إِلَى كِتَابِ اللَّهِ رَبِّهِمْ ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ ، فَلَا يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ حَتَّى يَرْشُقُوهُ بِالنَّبْلِ ، يَا جُنْدَبُ ، أَمَا إِنَّهُ لَا يُقْتَلُ مِنَّا عَشَرَةٌ ، وَلَا يَنْجُو مِنْهُمْ عَشَرَةٌ . ¤ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ وَهُمْ فِي مُعَسْكَرِهِمُ الَّذِي كَانُوا فِيهِ لَمْ يَبْرَحُوا ، فَنَادَى عَلِيٌّ فِي أَصْحَابِهِ فَصَفَّهُمْ ، ثُمَّ أَتَى الصَّفَّ مِنْ رَأْسِهِ ذَا إِلَى رَأْسِهِ ذَا مَرَّتَيْنِ ، وَهُوَ يَقُولُ : مَنْ يَأْخُذُ هَذَا الْمُصْحَفَ ، فَيَمْشِي بِهِ إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ فَيَدْعُوهُمْ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ رَبِّهِمْ ، وَسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ ، وَهُوَ مَقْتُولٌ وَلَهُ الْجَنَّةُ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ إِلَّا شَابٌّ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، فَلَمَّا رَأَى عَلِيٌّ حَدَاثَةَ سِنِّهِ ، قَالَ لَهُ : ارْجِعْ إِلَى مَوْقِفِكَ . ¤ ثُمَّ نَادَى الثَّانِيَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِ إِلَّا ذَلِكَ الشَّابُّ . ¤ ثُمَّ نَادَى الثَّالِثَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِ إِلَّا ذَلِكَ الشَّابُّ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : خُذْ ، فَأَخَذَ الْمُصْحَفَ ، فَقَالَ لَهُ : أَمَا إِنَّكَ مَقْتُولٌ ، وَلَسْتَ مُقْبِلًا عَلَيْنَا بِوَجْهِكَ حَتَّى يَرْشُقُوكَ بِالنَّبْلِ . ¤ فَخَرَجَ الشَّابُّ بِالْمُصْحَفِ إِلَى الْقَوْمِ ، فَلَمَّا دَنَا مِنْهُمْ حَيْثُ يَسْمَعُونَ قَامُوا وَنَشَّبُوا الْفَتَى قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ ، قَالَ : فَرَمَاهُ إِنْسَانٌ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَعَدَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : دُونَكُمُ الْقَوْمُ ، قَالَ جُنْدَبٌ : فَقَتَلْتُ بِكَفِّي هَذِهِ بَعْدَ مَا دَخَلَنِي مَا كَانَ دَخَلَنِي ثَمَانِيَةً ، قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ الظُّهْرَ ، وَمَا قُتِلَ مِنَّا عَشَرَةٌ ، وَلَا نَجَا مِنْهُمْ عَشَرَةٌ كَمَا قَالَ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ أَبِي السابِعَةِ ، عَنْ جُنْدَبٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْ أَبَا السَّابِعَةِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب خوارج نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے علیحدگی اختیار کی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کا پیچھا کرتے ہوئے نکلے ان کے ساتھ ہم بھی روانہ ہوئے ہم دشمن کے لشکر کے پاس پہنچ گئے قرآن کی تلاوت کی آواز یوں آ رہی تھی جس طرح شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے ان کے درمیان وہ لوگ بھی تھے جن کی جلد پر سخت نشان ( یا گٹھے ) تھے ، کچھ برانس والے ( یعنی عبادت گزار ) تھے ، جب میں نے ان لوگوں کو دیکھا تو مجھے اس حوالے سے الجھن کا احساس ہوا میں ایک طرف ہٹ گیا میں نے اپنا نیزہ زمین میں گاڑ دیا اپنے گھوڑے سے اتر آیا اور اپنی ٹوپی اتار دی اس پر اپنی ذرہ رکھ دی میں نے اپنے گھوڑے کی چھڑی کو پکڑا اور نیزے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنے لگا میں نماز کے دوران یہ دعا کر رہا تھا : اے اللہ اگر ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنا تیری اطاعت ہے ، تو مجھے اس کی اجازت دے اور اگر یہ معصیت ہے ، تو مجھے لاتعلقی موقع فراہم کر راوی کہتے ہیں : ابھی میں اسی حالت میں تھا کہ اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر سوار ہو کر تشریف لائے جب وہ میرے مد مقابل آئے ، تو انہوں نے فرمایا : تم اللہ کی پناہ مانگو تم اللہ کی پناہ مانگو اے جندب شک کے شر سے ( پناہ مانگو ) میں دوڑتا ہوا ان کی طرف گیا وہ سواری سے نیچے اترے اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے اسی دوران ایک شخص گھوڑے پر سوار ہو کر آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا بات ہے اس نے کہا: آپ دشمن کی طرف توجہ نہیں دیں گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا اس نے کہا: انہوں نے نہر کاٹ دی ہے ( یا پار کر لی ہے ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا ۔ انہوں نے اسے پار کر لیا ہے میں نے کہا: سبحان اللہ پھر اس کے بعد ایک اور شخص آیا جس کی آواز زیادہ اونچی تھی اس نے کہا: اے امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کیا چاہتے ہو ۔ اس نے کہا: کیا آپ دشمن کی طرف توجہ نہیں دیں گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے اس نے بتایا : ان لوگوں نے نہر پار کر لی ہے ، اور وہ چلے گئے ہیں میں نے کہا: اللہ اکبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ اسے پار نہیں کر سکتے پھر ایک اور شخص اپنے گھوڑے کو دوڑاتا ہوا آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا اس نے کہا: آپ دشمن کی طرف توجہ نہیں دیں گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا ہوا اس نے بتایا : ان لوگوں نے نہر پار کر لی ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ اسے پار نہیں کر سکتے ہیں ، اور نہ ہی اسے آگے کر سکیں گے وہ اس سے پہلے ہی قتل ہو جائیں گے یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے عہد ہے میں نے کہا: اللہ اکبر پھر میں اٹھا میں نے ان کے لئے رکاب کو پکڑا وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوے میں اپنی ذرہ کی طرف واپس آیا میں نے اسے پہنا میں نے اپنی کمان لی اور اسے لٹکایا اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتا ہوا نکلا انہوں نے مجھ سے فرمایا : اے جندب میں نے کہا: اے امیر المؤمنین میں حاضر ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، تو ان کی طرف ایک شخص کو بھیجوں گا ، جو قرآن پڑھے گا اور انہیں اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دے گا ، جو ان کا پروردگار اور ان کے نبی کی سنت کی طرف دعوت دے گا اور وہ ہماری طرف رخ نہیں کریں گے ، یہاں تک کہ اس شخص کو نیزوں کے ذریعے زخمی کر دیں گے ۔ اے جندب ! ہماری طرف سے دس آدمی بھی قتل نہیں ہوں گے ، اور ان کی طرف سے دس آدمی بھی نہیں بچیں گے راوی کہتے ہیں : ہم لوگ ان تک پہنچ گئے وہ لوگ اپنے لشکر میں موجود تھے جس میں پہلے تھے اور وہ اسی حالت میں تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب میں آواز بلند کی اور ان لوگوں کی صفیں بنوائیں پھر وہ صف کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک آئے ایسا انہوں نے دو مرتبہ کیا وہ یہ کہہ رہے تھے کون شخص یہ قرآن لے کر ان لوگوں کی طرف جائے گا اور انہیں اللہ کی کتاب کی طرف جو ان کا پروردگار ہے ، اور ان کے نبی کی سنت کی طرف دعوت دے گا وہ شخص قتل ہو جائے گا اور اسے جنت مل جائے گی کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جواب نہیں دیا بنو عامر بن صعصعہ سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے انہیں جواب دیا : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی کم عمری ملاحظہ کی تو اس سے فرمایا : تم اپنی جگہ پر واپس چلے جاؤ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوسری مرتبہ یہی اعلان کیا ، تو کوئی نکل کر ان کی طرف نہیں آیا صرف وہی نوجوان آیا پھر انہوں نے تیسری مرتبہ اعلان کیا ، تو صرف وہی نوجوان نکل کر ان کی طرف آیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم یہ لو ! اس نے مصحف لیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم قتل ہو جاؤ گے ، اور تم ہمارے پاس واپس نہیں آؤ گے وہ لوگ تمہیں نیزوں کے ذریعے زخمی کر دیں گے ( یا قتل کر دیں گے ) وہ نوجوان قرآن مجید لے کر دشمن کی طرف گیا جب وہ ان کے اتنا قریب ہوا جہاں وہ اس کی آواز سن سکتے تھے ، تو وہ کھڑا ہوا اس نوجوان کے واپس آنے سے پہلے ان لوگوں نے اس پر تیر اندازی کی ایک شخص نے اسے تیر مارا اس نوجوان نے ہماری طرف رخ کیا اور بیٹھ گیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ان پر حملہ کر دو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پہلے ان لوگوں کے بارے میں میرے ذہن میں جو بھی خیال آیا تھا اس کے بعد یہ حال ہوا کہ میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آٹھ لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے قتل کر دیا ، اور ہم میں سے دس آدمی بھی قتل نہیں ہوئے ، اور ان میں سے دس آدمی بھی نہیں بچے جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابوسابعہ کے حوالے سے سیدنا جندب سے نقل کی ہے میں ابوسابعہ سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔