مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِي الثُّدَيَّةِ وَأَهْلِ النَّهْرَوَانِ باب: ذوثدیہ اور اہل نہروان کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا اعْتَزَلَتِ الْحَرُورِيَّةُ وَكَانُوا عَلَى حِدَتِهِمْ ، قُلْتُ لِعَلِيٍّ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَبْرِدْ عَنِ الصَّلَاةِ لَعَلِّي آتِي هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ ، فَأُكَلِّمُهُمْ ، قَالَ : إِنِّي أَتَخَوَّفُهُمْ عَلَيْكَ . قُلْتُ : كَلَّا إِنَّ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَبِسْتُ أَحْسَنَ مَا قَدَرْتُ عَلَيْهِ مِنْ هَذِهِ الْيَمَانِيَّةِ ، ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِمْ وَهُمْ قَائِلُونَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ أَرَ قَوْمًا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنْهُمْ ، أَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا ثِفَنُ الْإِبِلِ ، وَوُجُوهُهُمْ مُعْلَنَةٌ مِنْ آثَارِ السُّجُودِ ، فَدَخَلْتُ فَقَالُوا : مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ أُحَدِّثُكُمْ عَنْ أَصْحَابِ رِسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَزَلَ الْوَحْيُ وَهُمْ أَعْلَمُ بِتَأْوِيلِهِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا تُحَدِّثُوهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَنُحَدِّثَنَّهُ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : أَخْبِرُونِي مَا تَنْقِمُونَ عَلَى ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَتَنِهِ ، وَأَوَّلِ مَنْ آمَنَ بِهِ ، وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ ؟ قَالُوا : نَنْقِمُ عَلَيْهِ ثَلَاثًا ، قُلْتُ : مَا هُنَّ ؟ قَالُوا : أَوَّلُهُنَّ أَنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي دِينِ اللَّهِ ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ . ¤ قُلْتُ : وَمَاذَا ؟ قَالُوا : قَاتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ ، لَئِنْ كَانُوا كُفَّارًا لَقَدْ حَلَّتْ أَمْوَالُهُمْ ، وَإِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ لَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ دِمَاؤُهُمْ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : وَمَاذَا ؟ قَالُوا : وَمَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَهُوَ أَمِيرُ الْكَافِرِينَ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَرَأْتُ عَلَيْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ الْمُحْكَمِ ، وَحَدَّثْتُكُمْ مِنْ سُنَّةِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَا تُنْكِرُونَ أَتَرْجِعُونَ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . ¤ قَالَ : قُلْتُ : أَمَّا قَوْلُكُمْ : إِنَّهُ حَكَّمَ الرِّجَالَ فِي دِينِ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ تَعَالَى يَقُولُ : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ . إِلَى قَوْلِهِ : يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ ، وَقَالَ فِي الْمَرْأَةِ وَزَوْجِهَا : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا . أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ ، أَفَحُكْمُ الرِّجَالِ فِي دِمَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ أَحَقُّ أَمْ فِي أَرْنَبٍ ثَمَنُهَا رُبُعُ دِرْهَمٍ ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ فِي حَقْنِ دِمَائِهِمْ ، وَصَلَاحِ ذَاتِ بَيْنِهِمْ . قَالَ : أَخَرَجَتْ مِنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ . ¤ وَأَمَّا قَوْلُكُمْ : إِنَّهُ قَتَلَ وَلَمْ يَسْبِ وَلَمْ يَغْنَمْ ، أَتَسْبُونَ أُمَّكُمْ ؟ أَمْ تَسْتَحِلُّونَ مِنْهَا مَا تَسْتَحِلُّونَ مِنْ غَيْرِهَا ؟ فَقَدْ كَفَرْتُمْ . وَإِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّهَا لَيْسَتْ بِأُمِّكُمْ فَقَدْ كَفَرْتُمْ ، وَخَرَجْتُمْ مِنَ الْإِسْلَامِ ; إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ : النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ وَأَنْتُمْ تَتَرَدَّدُونَ بَيْنَ ضَلَالَتَيْنِ ، فَاخْتَارُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ ، أَخَرَجَتْ مِنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ . ¤ وَأَمَّا قَوْلُكُمْ : مَحَا نَفْسَهُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا قُرَيْشًا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى أَنْ يَكْتُبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ كِتَابًا ، فَقَالَ : " اكْتُبْ : هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " فَقَالُوا : وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ ، وَلَكِنِ اكْتُبْ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ . فَقَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ ، وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي ، اكْتُبْ يَا عَلِيُّ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ " . وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عَلِيٍّ ، أَخَرَجَتْ مِنْ هَذِهِ ؟ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ . ¤ فَرَجَعَ مِنْهُمْ عِشْرُونَ أَلْفًا ، وَبَقِيَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ فَقُتِلُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِبَعْضِهِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حروریہ نے علیحدگی اختیار کی اور وہ الگ ہو گئے ، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اے امیر المؤمنین آپ نماز میں ذرا تاخیر کریں تاکہ میں ان لوگوں کے پاس سے ہو آؤں اور ان سے بات چیت کروں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ تمہیں نقصان نہ پہنچا دیں میں نے کہا: اگر اللہ نے چاہا تو ایسا نہیں ہو گا پھر میں نے اپنے پاس موجود سب سے عمدہ یمانی لباس پہنا اور میں ان لوگوں کے پاس گیا اس وقت وہ لوگ دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے میں ان لوگوں کے پاس آیا میں نے اس طرح کے محنتی لوگ کبھی نہیں دیکھے ان کے ہاتھ ، اونٹ کے سخت نشان کی طرح تھے ، اور ان کے چہروں پر سجدوں کے نشانات تھے میں داخل ہوا تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس آپ کو خوش آمدید ہے آپ کس سلسلے میں آئے ہیں ؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں تمہارے ساتھ اللہ کے رسول کے اصحاب کے بارے میں بات چیت کرنے کے لئے آیا ہوں وحی نازل ہو چکی ہے ، اور اس کے مفہوم کے بارے میں یہ لوگ زیادہ بہتر جانتے ہیں ان لوگوں میں سے کچھ نے یہ کہا: کہ تم لوگ ان کے ساتھ بات نہ کرو اور کچھ نے کہا: ہم ان کے ساتھ ضرور بات کریں گے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے کہا: تم لوگ مجھے بتاؤ کہ تمہیں اللہ کے رسول کے چچازاد اور ان کے داماد پر کیا اعتراض ہے ، جو سب سے پہلے ان پر ایمان لائے تھے اور پھر اللہ کے رسول کے اصحاب بھی ان کے ساتھ ہیں ؟ ان لوگوں نے کہا: ہمیں ان پر تین اعتراضات ہیں میں نے دریافت کیا : وہ کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا: پہلی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کے بارے میں انسانوں کو ثالث مقرر کیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” حکم صرف اللہ کا ہو گا “ ۔ میں نے دریافت کیا : اور کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: انہوں نے جنگ کی لیکن دشمن کو قیدی نہیں بنایا اور اس کے مال کو غنیمت شمار نہیں کیا اگر دوسرے گروہ کے لوگ کافر تھے ، تو ان کے اموال بھی حلال ہونے چاہیے تھے اور اگر وہ مومن تھے ، تو ان کے خون بھی ان پر حرام ہونے چاہیے تھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے دریافت کیا : اور کیا اعتراض ہے ؟ انہوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات سے امیر المؤمنین کا لفظ مٹا دیا تھا اگر وہ امیر المؤمنین نہیں ہیں ، تو پھر وہ امیرالکافرین ہوں گے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے کہا: اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر میں تمہارے سامنے اللہ کی محکم کتاب کی آیات تلاوت کروں اور تمہیں تمہارے نبی کی وہ سنت بیان کروں ، جس کا تم انکار نہ کر سکو ، تو کیا تم رجوع کر لو گے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے کہا: جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ انہوں نے اللہ کے دین کے بارے میں انسانوں کو حکم مقرر کیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اے ایمان والو جب تم احرام کی حالت میں ہو ، تو تم شکار کو نہ مارو “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اس کے بارے میں تم میں سے دو عادل لوگ فیصلہ دیں “ ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عورت اور اس کے شوہر کے بارے میں یہ فرمایا ہے : ” اگر تم لوگوں کو ان کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو ، تو ایک ثالث مرد کے گھر والوں کی طرف سے اور ایک ثالث عورت کے گھر والوں کی طرف سے بھیج دو “ ۔ ( پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ لوگوں کی جانوں اور خون کے بارے میں انسانوں کو ثالث مقرر کرنا تاکہ لوگوں کے درمیان بہتری ہو یہ زیادہ حق رکھتا ہے یا ایک خرگوش کے بارے میں ثالث مقرر کرنا زیادہ حق رکھتا ہے ، جس کی قیمت چار درہم ہو گی لوگوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ لوگوں کی جان کو محفوظ کرنا اور ان کے درمیان صلح کرنا یہ زیادہ حق رکھتا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں نے اس اعتراض کا جواب پیش کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے جی ہاں ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ انہوں نے قتل کیا اور قیدی نہیں بنایا اور مال کو غنیمت قرار نہیں دیا ، تو کیا تم لوگ اپنی ماں کو قیدی بناؤ گے یا ان کے حوالے سے اس چیز کو حلال قرار دو گے ، جس چیز کو تم ان کے علاوہ دیگر خواتین کے حوالے سے حلال قرار دیتے ہو اگر تم ایسا کرو گے ، تو تم کفر کے مرتکب ہو گے ، اور اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ وہ تمہاری ماں نہیں ہے ، تو بھی تم کفر کے مرتکب ہو گے ، اور اسلام سے نکل جاؤ گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” نبی ، مومنین کے نزدیک ان کی جان سے زیادہ قریب ہیں ، اور نبی کی ازواج ان کی مائیں ہیں “ ۔ تو تم لوگ دو قسم کی گمراہیوں کے درمیان لڑھکتے پھرو گے ان دونوں میں سے جسے تم چاہو اختیار کر لو کیا میں نے اس اعتراض کا جواب دے دیا : انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے ۔ جی ہاں ! ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ) جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کے لئے لفظ امیر المؤمنین مٹوا دیا تھا تو حدیبیہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو یہ دعوت دی کہ آپ ان کے اور اپنے درمیان معاہدہ تحریر کر لیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : تم یہ تحریر کرو کہ یہ وہ معاہدہ ہے ، جو اللہ کے رسول سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کر رہے ہیں تو مشرکین نے کہا: اللہ کی قسم اگر ہمیں یہ علم ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو ہم نے آپ کو بیت اللہ تک جانے سے نہیں روکنا تھا ، اور آپ کے ساتھ جنگ نہیں کرنی تھی اور آپ یہ لکھیں کہ محمد بن عبداللہ ( یہ معاہدہ کر رہے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم میں اللہ کا رسول ہوں اگرچہ تم لوگ مجھے جھٹلاتے ہو : اے علی ! تم یہ لکھو محمد بن عبدالله ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا : ) کیا اللہ کے رسول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتے تھے ؟ کیا میں نے اس اعتراض کا جواب بھی دے دیا ؟ ان لوگوں نے کہا: اللہ جانتا ہے جی ہاں راوی بیان کرتے ہیں : تو ان میں سے بیس ہزار افراد نے رجوع کر لیا اور چار ہزار افراد اپنے مسلک پر باقی رہے ، اور پھر وہ قتل ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔