مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِي الثُّدَيَّةِ وَأَهْلِ النَّهْرَوَانِ باب: ذوثدیہ اور اہل نہروان کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذَكَرَتِ الْخَوَارِجَ ، وَسَأَلَتْ مَنْ قَتَلَهُمْ - يَعْنِي أَصْحَابَ النَّهْرِ - فَقَالُوا : عَلِيٌّ ، فَقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " يَقْتُلُهُمْ خِيَارُ أُمَّتِي ، وَهُمْ شِرَارُ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ قِصَّةٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے خوارج کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے دریافت کیا : کس نے انہیں قتل کیا ہے ، تو لوگوں نے بتایا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ان لوگوں کو میری امت کے بہترین لوگ قتل کریں گے ، اور وہ لوگ ( یعنی خوارج ) میری امت کے بدترین لوگ ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، جس میں پورا واقعہ منقول ہے ۔