حدیث نمبر: 10448
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : مَنْ قَتَلَ ذَا الثُّدَيَّةِ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَتْ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " يَخْرُجُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : ذوثدیہ کو کس نے قتل کیا تھا ؟ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کچھ لوگ نکلیں گے ، جو قرآن پڑھیں گے ، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ، اور ان کی مخصوص نشانی ایک شخص ہو گا جس کا ایک ہاتھ نا مکمل ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10448
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً