حدیث نمبر: 10446
وَعَنْ كُلَيْبِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ ، وَهُوَ فِي بَعْضِ أَمْرِ النَّاسِ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَشَغَلَ عَلِيًّا مَا كَانَ فِيهِ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ، فَقَالَ كُلَيْبٌ : قُلْتُ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَقَالَ : كُنْتُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا - قَالَ : لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ - فَمَرَرْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خَرَجُوا قِبَلَكُمْ يُقَالُ لَهُمْ : الْحَرُورِيَّةُ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : فِي مَكَانٍ يُقَالُ لَهُ حَرُورَاءُ ؟ قَالَ : قَالَ : فَسُمُّوا بِذَلِكَ الْحَرُورِيَّةَ . فَقَالَتْ : طُوبَى لِمَنْ شَهِدَ هَلَكَتَهُمْ . قَالَتْ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شَاءَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ لَأَخْبَرَكُمْ خَبَرَهُمْ . ¤ فَمِنْ ثَمَّ جِئْتُ أَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ ، قَالَ : وَفَرَغَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : أَيْنَ الْمُسْتَأْذِنُ ؟ فَقَامَ عَلَيْهِ فَقَصَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا قَصَّ عَلَيَّ ، قَالَ : فَأَهَلَّ عَلِيٌّ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَةُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : ¤ " يَا عَلِيُّ ، كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمٌ يَخْرُجُونَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا " . وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ : " وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ - أَوْ تَرَاقِيَهُمْ - يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ ، كَأَنَّ يَدَهُ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : أَنْشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَحَدَّثَكُمْ أَنَّهُ فِيهِمْ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . فَذَهَبْتُمْ فَالْتَمَسْتُمُوهُ حَتَّى جِئْتُمْ بِهِ تَسْحَبُونَهُ كَمَا نَعَتَ لَكُمْ ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ، رِجَالٌ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین

کلیب بن شہاب بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ لوگوں کے معاملات میں مصروف تھے اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا جس کے جسم پر سفر کا لباس تھا اس نے کہا: اے امیر المؤمنین لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ دیگر امور کی طرف متوجہ رہے ، اور اس کی طرف توجہ نہیں دی کلیب بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ، تو اس نے بتایا : میں حج کے سلسلے میں یا عمرے کے سلسلے میں گیا ہوا تھا راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں سمجھ آئی کہ اس نے کیا کہا: ہے اس نے بتایا : میرا گزر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے ہوا تو انہوں نے دریافت کیا : وہ لوگ کون ہیں ، جنہوں نے تمہاری طرف خروج کیا ہے جنہیں حروریہ کہا: جاتا ہے ، تو میں نے بتایا : وہ ایک جگہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کا نام حروراء ہے ، اور اس حوالے سے ان کا نام حروریہ رکھا گیا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جو انہیں ہلاک کرنے میں شریک ہوتا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا اللہ کی قسم اگر ابن ابوطالب چاہیں ، تو میں تم لوگوں کو ان کے حالات کے بارے میں بتا سکتی ہوں ۔ ( اس شخص نے کہا: ) تو اسی وجہ سے میں اس بارے میں دریافت کرنے کے لئے آیا ہوں راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے ، تو انہوں نے دریافت کیا : اجازت لینے والا شخص کہاں ہے وہ شخص ان کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے پورا واقعہ بیان کیا جو اس نے میرے سامنے بیان کیا تھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھا اور پھر یہ کہا: کہ میں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی اور آپ کے پاس موجود نہیں تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اے علی ! اس وقت تم کیا کرو گے کہ جب فلاں جگہ پر کچھ لوگ نکلیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ فرمایا وہ لوگ قرآن کی تلاوت کریں گے ، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اور وہ اسلام سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ان لوگوں میں ایک شخص ہو گا جس کا ایک ہاتھ نامکمل ہو گا اس کا ہاتھ حبشی عورت کی چھاتی کی مانند ہو گا “ ۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے میں نے تم لوگوں سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ وہ شخص ان لوگوں میں ہو گا لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پھر تم لوگ گئے تھے تم نے اسے تلاش کیا تھا پھر تم اسے گھسیٹتے ہوئے لے کر آئے تھے اور وہ ویسا ہی تھا جیسے میں نے تمہارے سامنے بیان کیا تھا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ یہ کہا: کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں امام بزار نے
یہ روایت اس کی مانند نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10446
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1855 و 1856) اخرجه أبو يعلى فى المسند (472)»