مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِي الثُّدَيَّةِ وَأَهْلِ النَّهْرَوَانِ باب: ذوثدیہ اور اہل نہروان کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : ¤ سَأَلْتُهُ عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ . قَالَ : قُلْتُ : فِيمَ فَارَقُوهُ ؟ وَفِيمَ اسْتَحَلُّوهُ ؟ وَفِيمَ دَعَاهُمْ ؟ وَبِمَ اسْتَحَلَّ دِمَاءَهُمْ ؟ قَالَ : إِنَّهُ لَمَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ فِي أَهْلِ الشَّامِ بِصِفِّينَ ، اعْتَصَمَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِجَبَلٍ ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ : أَرْسِلْ إِلَيْهِ بِالْمُصْحَفِ فَلَا وَاللَّهِ لَا نَرُدُّهُ عَلَيْكَ . قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ يَحْمِلُهُ يُنَادِي : بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ . . . الْآيَةَ . قَالَ عَلِيٌّ : نَعَمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ ، أَنَا أَوْلَى بِهِ مِنْكُمْ . ¤ فَجَاءَتِ الْخَوَارِجُ ، وَكُنَّا نُسَمِّيهِمْ يَوْمَئِذٍ الْقُرَّاءَ ، وَجَاءُوا بِأَسْيَافِهِمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا نَمْشِي إِلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ . فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ ، لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا قَاتَلْنَا ، وَذَلِكَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ؟ قَالَ : " بَلَى " . قَالَ : أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : " بَلَى " . قَالَ : فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ، وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ قَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي أَبَدًا " . ¤ فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا حَتَّى أَتَى أَبَا بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ ، وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ ، وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ ؟ قَالَ : بَلَى . قَالَ : فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا ، وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ؟ قَالَ : يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا . ¤ قَالَ : فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى مُحَمَّدٍ بِالْفَتْحِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ ، فَأَقْرَأَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوَفَتْحٌ هُوَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ ، وَرَجَعَ النَّاسُ ، ثُمَّ إِنَّهُمْ خَرَجُوا بِحَرُورَاءَ - أُولَئِكَ الْعِصَابَةُ مِنَ الْخَوَارِجِ بِضْعَةَ عَشَرَ أَلْفًا - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَلِيٌّ يَنْشُدُهُمُ اللَّهَ ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ . فَأَتَاهُمْ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ فَأَنْشَدَهُمْ ، وَقَالَ : عَلَامَ تُقَاتِلُونَ خَلِيفَتَكُمْ ؟ قَالُوا : مَخَافَةَ الْفِتْنَةِ . قَالَ : فَلَا تُعَجِّلُوا ضَلَالَةَ الْعَامِ مَخَافَةَ فِتْنَةِ عَامٍ قَابِلٍ . فَرَجَعُوا وَقَالُوا : نَسِيرُ عَلَى مَا جِئْنَا ، فَإِنْ قَبِلَ عَلِيٌّ الْقَضِيَّةَ قَاتَلْنَا عَلَى مَا قَاتَلْنَا يَوْمَ صِفِّينَ ، وَإِنْ نَقَضَهَا قَاتَلْنَا مَعَهُ . فَسَارُوا حَتَّى بَلَغُوا النَّهْرَوَانِ . فَافْتَرَقَتْ مِنْهُمْ فِرْقَةٌ ، فَجَعَلُوا يَهْدُونَ النَّاسَ لَيْلًا ، قَالَ أَصْحَابُهُمْ : وَيْلَكُمْ مَا عَلَى هَذَا فَارَقْنَا عَلِيًّا ، فَبَلَغَ عَلِيًّا أَمْرُهُمْ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : مَا تَرَوْنَ ، نَسِيرُ إِلَى أَهْلِ الشَّامِ أَمْ نَرْجِعُ إِلَى هَؤُلَاءِ الَّذِينَ خُلِّفُوا إِلَى ذَرَارِيِّكُمْ ؟ قَالُوا : بَلْ نَرْجِعُ فَذَكَرَ أَمْرَهُمْ ، فَحَدَّثَ عَنْهُمْ بِمَا قَالَ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ فَرِقَةً تَخْرُجُ عِنْدَ اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ ، تَقْتُلُهُمْ أَقْرَبُ الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ ، عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ يَدُهُ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ " . ¤ فَسَارُوا حَتَّى الْتَقَوْا بِالنَّهْرَوَانِ ، فَاقْتَتَلُوا قِتَالًا شَدِيدًا ، فَجَعَلَتْ خَيْلُ عَلِيٍّ لَا تَقِفُ لَهُمْ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنْ كُنْتُمْ إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ لِي فَوَاللَّهِ مَا عِنْدِي مَا أَجْزِيكُمْ ، وَإِنْ كُنْتُمْ إِنَّمَا تُقَاتِلُونَ لِلَّهِ ، فَلَا يَكُونَنَّ هَذَا فِعَالَكُمْ ، فَحَمَلَ النَّاسُ حَمْلَةً وَاحِدَةً ، فَانْجَلَتِ الْخَيْلُ عَنْهُمْ وَهُمْ مُنْكَبُّونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ . ¤ فَقَامَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : اطْلُبُوا الرَّجُلَ الَّذِي فِيهِمْ ، فَطَلَبَ النَّاسُ الرَّجُلَ فَلَمْ يَجِدُوهُ ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ : غَرَّنَا ابْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنْ إِخْوَانِنَا حَتَّى قَتَلْنَاهُمْ . قَالَ : فَدَمَعَتْ عَيْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : فَدَعَا بِدَابَّتِهِ فَرَكِبَهَا فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى وَهْدَةً فِيهَا قَتْلَى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَجَعَلَ يَجُرُّ بِأَرْجُلِهِمْ حَتَّى وَجَدَ الرَّجُلَ تَحْتَهُمْ ، فَأَخْبَرُوهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : اللَّهُ أَكْبَرُ . وَفَرِحَ ، وَفَرِحَ النَّاسُ وَرَجَعُوا . وَقَالَ عَلِيٌّ : لَا أَغْزُو الْعَامَ . وَرَجَعَ إِلَى الْكُوفَةِ ، وَقُتِلَ رَحِمَهُ اللَّهُ ، وَاسْتُخْلِفَ الْحَسَنُ ، وَسَارَ سِيرَةَ أَبِيهِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِالْبَيْعَةِ إِلَى مُعَاوِيَةَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤حبیب بن ابوثابت ابووائل کے بارے میں یہ بات ذکر کی ہے میں نے ان سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا : جنہیں ، سیدنا علی رضی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا میں نے دریافت کیا : وہ لوگ کس وجہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے الگ ہوئے تھے کس وجہ سے انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خون کو حلال قرار دیا تھا ، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں کس بات کی دعوت دی تھی اور کس بنیاد پر ان کے خون کو حلال قرار دیا تھا ، تو ابووائل نے بتایا : جب صفین کے مقام پر اہل شام کے ساتھ جنگ شدید ہو گئی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے ایک پہاڑ کی پناہ لی تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف مصحف کو بھیجیں اللہ کی قسم ہم اس کے علاوہ کسی اور صورت میں نہیں بچ سکتے راوی بیان کرتے ہیں : تو ایک شخص قرآن مجید کو اٹھا کر آیا اور اس نے پکار کر کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ دے گی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب میں سے حصہ دیا گیا “ ۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ٹھیک ہے ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی اور میں اس کی پیروی کرنے کا تم سے زیادہ حق رکھتا ہوں پھر خوارج آئے ہم انہیں قاری صاحبان کہا: کرتے تھے انہوں نے اپنی تلواریں اپنی گردنوں پر رکھی ہوئی تھیں انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین کیا ہم اس قوم کی طرف چل کر نہ جائیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دیدے تو سہل بن حنیف کھڑے ہوئے ، اور بولے : اے لوگو تم اپنے آپ کو غلط قرار دو حدیبیہ کے موقع پر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اگر ہم جنگ کرنا چاہتے تو جنگ کر سکتے تھے اور یہ وہ صلح ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی تھی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ، اور وہ باطل پر نہیں ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا ہمارے مقتولین جنت میں نہیں ہیں ، اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر ہم کس بنیاد پر اپنے دین کے حوالے سے کمزوری ظاہر کریں ہم واپس جاتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دیدے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! میں اللہ کا رسول ہوں ، اور وہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے لیکن انہیں غصے پر ق ابونہیں آیا تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور بولے : اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : کیا ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے مقتولین جہنم میں نہیں ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر ہم کس بنیاد پر اپنے دین کے معاملے میں کمزوری دکھائیں ہمیں تو یہ کرنا چاہیے ( کہ جنگ کریں ) تاکہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دیدے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے خطاب کے صاحبزادے ! وہ اللہ کے رسول ہیں ، اور اللہ تعالیٰ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورہ فتح نازل ہو گئی آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور ان کے سامنے یہ سورت پڑھی انہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا یہ فتح ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں تو اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تسلی ہوئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس چلے گئے ، اور لوگ بھی واپس چلے گئے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) ان خوارج نے حروراء کے مقام پر پڑاؤ کیا یہ دس ہزار سے کچھ زیادہ لوگ تھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور انہیں اللہ کا واسطہ دیا لیکن انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بات نہیں مانی پھر صعصعہ بن صوحان گئے ، اور انہیں واسطہ دیا ، اور یہ کہا: کہ تم لوگ کس بنیاد پر اپنے خلیفہ کے ساتھ لڑنا چاہ رہے ہو انہوں نے جواب دیا : فتنے کے اندیشے کی وجہ سے تو صعصعہ نے کہا: اگلے سال پیش آنے والے فتنے کے اندیشے کی وجہ سے تم اس سال گمراہی کا شکار نہ ہو ، تو وہ لوگ واپس چلے گئے انہوں نے کہا: ہم جس بنیاد پر آئے ہیں اس پر چلتے رہیں گے اگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ قبول کر لیا تو ہم اس اصول پر جنگ کریں گے ، جس پر ہم نے جنگ صفین میں جنگ کی تھی اور اگر انہوں نے اسے توڑ دیا ، تو ہم ان کے ساتھ مل کر لڑائی کریں گے پھر وہ لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ نہروان پہنچ گئے وہاں وہ مختلف حصوں میں تقسیم ہو گئے ، اور انہوں نے رات کے وقت لوگوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ان کے کچھ ساتھیوں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو ہم اس کام کے لئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے الگ نہیں ہوئے تھے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : تم لوگ کیا سمجھتے ہو ہمیں اہل شام کی طرف جانا چاہیے یا ان لوگوں کی طرف جانا چاہیے جنہیں تم اپنے بال بچوں میں اپنے پیچھے چھوڑ جاؤ گے ، تو لوگوں نے کہا: ہمیں واپس چلے جانا چاہیے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کا معاملہ ذکر کیا ان کے بارے میں حدیث بیان کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا : ” لوگوں کے درمیان اختلاف کے وقت ایک فرقہ ظہور پذیر ہو گا جسے وہ گروہ قتل کرے گا ، جو دونوں گروہوں میں سے حق کے زیادہ قریب ہو گا اور ان لوگوں کی مخصوص علامت ان میں موجود ایک فرد ہو گا جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی مانند ہو گا “ ۔ پھر وہ لوگ وہاں سے روانہ ہوئے ، اور نہروان کے مقام پر ان کی خوارج کے ساتھ جنگ ہوئی شدید لڑائی ہوئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا لشکر مسلسل پیش قدمی کرتا رہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو اگر تم میری خاطر جنگ کر رہے ہو ، تو اللہ کی قسم میرے پاس تمہیں جزا کے طور پر دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ، اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی خاطر جنگ کر رہے ہو ، تو پھر تمہارا یہ طرز عمل نہیں ہونا چاہیے پھر لوگوں نے ایک ہی مرتبہ حملہ کیا اور ان لوگوں کے گھڑسوار پسپا ہو گئے ، اور وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کے درمیان اس شخص کو تلاش کرو لوگوں نے اس شخص کو تلاش کیا لیکن انہیں وہ نہیں ملا یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے یہ کہا: کہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں دھوکہ دیا ہے ، جو ہمارے بھائیوں کے حوالے سے ہے ، جس کی وجہ سے ہم نے انہیں قتل کر دیا ہے ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے انہوں نے اپنی سواری منگوائی اس پر سوار ہوئے ، اور روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ وہ ایک نشیبی جگہ پر آئے جہاں مقتولین پڑے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کے اوپر پڑے ہوئے تھے ان کی ٹانگیں کھینچی جانے لگیں ، یہاں تک کہ ان کے نیچے سے وہ شخص مل گیا لوگوں نے اس بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ اکبر سیدنا علی رضی اللہ عنہ خوش ہو گئے ، اور لوگ بھی خوش ہو گئے ، اور لوگوں نے رجوع کر لیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس سال میں جنگ نہیں کروں گا ، پھر وہ واپس کوفہ آ گئے ، اور پھر وہاں وہ شہید ہو گئے اس کے بعد سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے انہوں نے بھی اپنے والد کا طرز عمل اختیار کیا اور پھر انہوں نے خلافت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔