حدیث نمبر: 10444
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِئِ : أَنَّهُ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، وَنَحْنُ عِنْدَهَا جُلُوسٌ ، مَرْجِعَهُ مِنَ الْعِرَاقِ لَيَالِيَ قَتْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَتْ لَهُ : يَا ابْنَ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ هَلْ أَنْتَ صَادِقِي عَمَّا أَسْأَلُكَ عَنْهُ ؟ حَدِّثْنِي عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ؟ قَالَ : وَمَا لِي لَا أَصْدُقُكِ ، قَالَتْ : فَحَدِّثْنِي عَنْ قِصَّتِهِمْ . قَالَ : فَإِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمَّا كَاتَبَ مُعَاوِيَةَ ، وَحَكَمَ الْحَكَمَانِ ، خَرَجَ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةُ آلَافٍ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ ، فَنَزَلُوا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا : حَرُورَاءُ - مِنْ جَانِبِ الْكُوفَةِ - وَإِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَيْهِ ، فَقَالُوا : انْسَلَخْتَ مِنْ قَمِيصٍ كَسَاكَهُ اللَّهُ ، اسْمٌ سَمَّاكَ اللَّهُ بِهِ ، ثُمَّ انْطَلَقْتَ فَحَكَّمْتَ فِي دِينِ اللَّهِ ، فَلَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ . فَلَمَّا بَلَغَ عَلِيًّا مَا عَتَبُوا عَلَيْهِ ، وَفَارَقُوهُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ مُؤَذِّنًا فَأَذَّنَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَّا مَنْ قَدْ حَمَلَ الْقُرْآنَ ، فَلَمَّا امْتَلَأَتِ الدَّارُ مِنْ قُرَّاءِ النَّاسِ دَعَا بِمُصْحَفِ إِمَامٍ عَظِيمٍ ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَجَعَلَ يَصُكَّهُ بِيَدِهِ ، وَيَقُولُ : أَيُّهَا الْمُصْحَفُ ، حَدِّثِ النَّاسَ . فَنَادَاهُ النَّاسُ فَقَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَسْأَلُ عَنْهُ إِنَّمَا هُوَ مِدَادٌ فِي وَرَقٍ ، يَتَكَلَّمُ بِمَا رَأَيْنَا مِنْهُ ، فَمَا تُرِيدُ ؟ . قَالَ : أَصْحَابُكُمْ أُولَاءِ الَّذِينَ خَرَجُوا بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ كِتَابُ اللَّهِ ، يَقُولُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ فِي امْرَأَةٍ وَرَجُلٍ " : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا . فَأُمَّةُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْظَمُ حُرْمَةً أَوْ ذِمَّةً مِنْ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ . وَنَقَمُوا عَلَيَّ أَنِّي لَمَّا كَاتَبْتُ مُعَاوِيَةَ كَتَبْتُ : عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَقَدْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " . قَالَ : لَا تَكْتُبْ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : " وَكَيْفَ نَكْتُبُ ؟ " قَالَ سُهَيْلٌ : اكْتُبْ : بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَاكْتُبْ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " فَقَالَ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ لَمْ أُخَالِفْكَ ، فَكَتَبَ : " هَذَا مَا صَالَحَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قُرَيْشًا " . يَقُولُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ . ¤ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا تَوَسَّطْنَا عَسْكَرَهُمْ ، قَامَ ابْنُ الْكَوَّاءِ ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : يَا حَمَلَةَ الْقُرْآنِ ، هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ يَعْرِفُهُ فَلْيَعْرِفْهُ ، فَأَنَا أَعْرِفُهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ ، هَذَا مِمَّنْ نَزَلَ فِيهِ وَفِي قَوْمِهِ : " قَوْمٌ خَصِمُونَ " . فَرُدُّوهُ إِلَى صَاحِبِهِ وَلَا تُوَاضِعُوهُ كِتَابَ اللَّهِ . ¤ قَالَ : فَقَامَ خُطَبَاؤُهُمْ فَقَالُوا : وَاللَّهِ لَنُوَاضِعَنَّهُ الْكِتَابَ ، فَإِنْ جَاءَ بِالْحَقِّ نَعْرِفُهُ لَنَتَّبِعَنَّهُ ، وَإِنْ جَاءَ بِبَاطِلٍ لَنُبَكِّتَنَّهُ بِبَاطِلٍ ، وَلَنَرُدَّنَّهُ إِلَى صَاحِبِهِ ، فَوَاضَعُوا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ الْكِتَابَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَرَجَعَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ آلَافٍ كُلُّهُمْ تَائِبٌ ، فِيهِمُ ابْنُ الْكَوَّاءِ حَتَّى أَدْخَلَهُمْ عَلِيٌّ عَلَى الْكُوفَةَ . فَبَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى بَقِيَّتِهِمْ ، قَالَ : قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا وَأَمْرِ النَّاسِ مَا قَدْ رَأَيْتُمْ ، فَقِفُوا حَيْثُ شِئْتُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ : أَنْ لَا تَسْفِكُوا دَمًا حَرَامًا ، أَوْ تَقْطَعُوا سَبِيلًا ، أَوْ تَظْلِمُوا ذِمَّةً ، فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ فَقَدْ نَبَذْنَا إِلَيْكُمُ الْحَرْبَ عَلَى سَوَاءٍ : إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ . ¤ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ : يَا ابْنَ شَدَّادٍ ، فَقَدْ قَتَلَهُمْ ؟ قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا بَعَثَ إِلَيْهِمْ حَتَّى قَطَعُوا السَّبِيلَ ، وَسَفَكُوا الدِّمَاءَ ، وَاسْتَحَلُّوا الذِّمَّةَ . فَقَالَتْ : وَاللَّهِ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كَانَ . ¤ قَالَتْ : فَمَا شَيْءٌ بَلَغَنِي عَنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يَتَحَدَّثُونَهُ يَقُولُونَ : ذَا الثُّدَيَّةِ ؟ مَرَّتَيْنِ . قَالَ : قَدْ رَأَيْتُهُ ، وَقُمْتُ مَعَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ فِي الْقَتْلَى فَدَعَا النَّاسَ ، فَقَالَ : أَتَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَمَا أَكْثَرَ مَنْ جَاءَ يَقُولُ : رَأَيْتُهُ فِي مَسْجِدِ بَنِي فُلَانٍ يُصَلِّي . وَلَمْ يَأْتُوا فِيهِ بِثَبْتٍ يُعْرَفُ إِلَّا ذَاكَ . قَالَتْ : فَمَا قَوْلُ عَلِيٍّ حِينَ قَامَ عَلَيْهِ كَمَا يَزْعُمُ أَهْلُ الْعِرَاقِ ؟ قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَتْ : فَهَلْ رَأَيْتَهُ قَالَ غَيْرَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا ، قَالَتْ : أَجَلْ ، صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، يَرْحَمُ اللَّهُ عَلِيًّا ، إِنَّهُ كَانَ مِنْ كَلَامِهِ لَا يَرَى شَيْئًا يُعْجِبُهُ إِلَّا قَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَيَذْهَبُ أَهْلُ الْعِرَاقِ فَيَكْذِبُونَ عَلَيْهِ وَيَزِيدُونَ فِي الْحَدِيثِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عبیداللہ بن عیاض بن عمرو القاری بیان کرتے ہیں : عبدالله بن شداد بن الہاد آئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے یہ ان صاحب کے عراق سے واپسی کی بات ہے جن دنوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے دریافت کیا : اے شداد بن الہاد کے بیٹے میں تم سے جس چیز کے بارے میں دریافت کروں گی کیا تم اس کے بارے میں مجھے سچ بیان کرو گے مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتاؤ جنہیں ۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا ، تو عبداللہ بن شداد نے کہا: میں کیوں آپ کے ساتھ سچ بیانی نہیں کروں گا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر تم ان کے بارے میں بتاؤ تو عبدالله بن شداد نے بتایا : جب سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ طے کیا کہ دونوں طرف سے ثالثی مقرر ہو گی تو قرآن کے عالموں میں سے آٹھ ہزار افراد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر دی اور انہوں نے ایک ایسی جگہ پر پڑاؤ کیا جس کا نام حروراء تھا یہ کوفہ کے پاس ایک جگہ تھی وہ لوگ وہاں جم گئے ان لوگوں نے کہا: آپ نے وہ قمیص اتار دی ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہنائی تھی اور اس نام کو بھی چھوڑ دیا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کا رکھا تھا ، اور پھر آپ نے آگے جا کے اللہ کے دین میں کسی کو ثالث بنا دیا ہے حالانکہ فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کا ہوتا ہے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی جو اعتراض انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر کیا تھا ، اور جس کی بنیاد پر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے الگ ہوئے تھے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مؤذن کو حکم دیا اس نے اذان دی ( یعنی اعلان کیا ) کہ امیر المؤمنین کے پاس صرف وہ شخص آئے جو قرآن کا عالم ہو جب قرآن کے عالموں سے گھر بھر گیا تو انہوں نے مصحف منگوایا اور ان لوگوں کے سامنے رکھ دیا ، اور پھر اپنے ہاتھ اس پر پھیر کر یہ کہنے لگے اے مصحف تم لوگوں کو بتاؤ تو لوگوں نے ان سے گزارش کرتے ہوئے کہا: اے امیر المؤمنین آپ اس سے کس کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں ؟ یہ صرف سیاہی ہے ، جو ورق پر لگی ہوئی ہے ، اور اس کے جو الفاظ ہیں وہ ہم پڑھ لیتے ہیں آپ کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : تمہارے یہ ساتھی جنہوں نے خروج کیا ہے میرے اور ان کے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں میاں بیوی کے بارے میں یہ فرمایا ہے : ” اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان ناچاقی کا اندیشہ ہو ، تو ایک ثالث مرد کے گھر والوں کی طرف سے بھیج دو اور ایک ثالث عورت کے گھر والوں کی طرف سے بھیج دو اگر وہ دونوں اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا “ ۔ ( پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی امت کی حرمت زیادہ ہے یا ایک مرد اور عورت کے معاملے کا احترام زیادہ ہے وہ لوگ مجھ پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ میں نے معاہدہ تحریر کرتے ہوئے اس میں یہ لکھ دیا ہے کہ علی بن ابوطالب ( اس میں امیر المؤمنین نہیں لکھا ) تو ایک مرتبہ سہیل بن عمرو ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) آیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوایا : بسم الله الرحمن الرحیم اس نے کہا: بسم الله الرحمن الرحیم نہ لکھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : پھر ہم کیا لکھیں سہیل نے کہا: آپ یہ لکھیں باسمك اللهم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لکھو محمد رسول اللہ اس نے کہا: اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، تو میں نے آپ کی مخالفت نہیں کرنی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوایا یہ وہ معاہدہ ہے ، جو محمد بن عبداللہ قریشی کر رہے ہیں ( پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے : ” تمہارے لئے اللہ کے رسول کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے یہ اس شخص کے لئے ہے ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو “ ۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں کی طرف بھیجا میں بھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ گیا ، یہاں تک کہ ہم ان کے لشکر کے درمیان میں پہنچ گئے ، تو ابن کواء کھڑا ہوا اس نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے کہا: اے قرآن کے عالمو ! یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں جو شخص ان کو نہیں جانتا تو وہ انہیں پہچان لے میں اللہ کی کتاب کے حوالے سے ان سے واقف ہوں یہ وہ فرد ہیں ، جن کے بارے میں اور جن کی قوم کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی : ” بلکہ وہ جھگڑالو ، لوگ ہیں “ تو تم انہیں ان کے آقا کے پاس واپس بھیج دو اور اللہ کی کتاب کے بارے میں ان کے ساتھ بحث نہ کرو ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان لوگوں کے خطیب کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! اللہ کی کتاب کی بنیاد پر ہم ان کے ساتھ مناظرہ کریں گے اگر یہ ایسا حق لے کر آئے ہوں جو ہمیں سمجھ آ گیا تو ہم ان کی پیروی کریں گے ، اور اگر یہ باطل لے کر آئے ہوں گے ، تو ہم ان کے باطل کے حوالے سے انہیں قبیح قرار دیں گے ، اور انہیں ان کے ساتھی کی طرف ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف ) واپس کر دیں گے پھر وہ تین دن تک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ اللہ کی کتاب کی بنیاد پر بحث کرتے رہے ، اور ان میں سے چار ہزار افراد نے رجوع کر لیا ان سب نے توبہ کی تھی ان لوگوں میں ابن کواء بھی شامل بھی تھا ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ انہیں لے کر کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے باقی افراد کی طرف مہم روانہ کی اور فرمایا : ہمارا اور لوگوں کا جو معاملہ ہے وہ تم دیکھ رہے ہو تم جہاں چاہو ٹھہرے رہو ہمارے اور اپنے درمیان یہ طے کر لو کہ تم حرام طور پر کوئی خون نہیں بہاؤ گے راستہ نہیں لوٹو گے ذمہ کی خلاف ورزی نہیں کرو گے اگر تم نے ان میں سے کوئی کام کیا ، تو پھر ہم تم پر جنگ مسلط کر دیں گے بے شک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن شداد سے کہا: اے ابن شداد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا تھا ؟ تو عبداللہ بن شداد نے بتایا اللہ کی قسم سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف جنگی مہم اس وقت تک نہیں بھیجی جب تک انہوں نے لوٹ مار شروع نہیں کر دی اور خون بہانا شروع نہیں کر دیا ، اور ذمہ کی خلاف ورزی نہیں شروع کر دی تو سیدہ عائشہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسا ہی ہوا تھا ؟ تو عبداللہ بن شداد نے کہا: اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ایسا ہی ہوا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اہل عراق کے بارے میں مجھے ایک اور چیز پتہ چلی ہے کہ وہ آپس میں بات چیت کرتے ہیں ، اور یہ کہتے ہیں کہ کوئی ذوثدیہ نام کا شخص بھی تھا تو عبداللہ بن شداد نے بتایا میں نے اسے دیکھا ہے ، میں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقتولین میں اس کے پاس کھڑا ہوا تھا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بلایا اور دریافت کیا : کیا تم لوگ اسے پہچانتے ہو ، تو زیادہ سے زیادہ یہ بات بتائی گئی کہ ایک شخص نے کہا: میں نے اسے بنو فلاں کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تھا لوگ اس کے بارے میں کوئی مستند اطلاع نہیں دے سکے صرف یہی بات پتہ چل سکی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس کھڑے ہوئے تھے ، تو انہوں نے کیا کہا: تھا وہی جو اہل عراق بیان کرتے ہیں ، تو عبداللہ بن شداد نے کہا: میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تم نے انہیں اس کے علاوہ کچھ اور کہتے ہوئے بھی دیکھا تو عبداللہ نے کہا: اللہ جانتا ہے جی نہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ٹھیک ہے اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر رحم کرے یہ ان کا تکیہ کلام تھا کہ جب بھی وہ کوئی حیران کن چیز دیکھتے تھے ، تو یہ کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، اور پھر اہل عراق نے ان کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا شروع کر دی اور اصل بات میں اضافہ شروع کر دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10444
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (474) اخرجه احمد فى المسند (656)»