مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِي الثُّدَيَّةِ وَأَهْلِ النَّهْرَوَانِ باب: ذوثدیہ اور اہل نہروان کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُحَنَّفِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ : ¤ أَتَيْنَا أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ يَعْلِفُ خَيْلًا لَهُ بِصَعْنَبَى ، فَقِلْنَا عِنْدَهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا أَبَا أَيُّوبَ ، قَاتَلْتَ الْمُشْرِكِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جِئْتَ تُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ ؟ . قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي بِقِتَالِ ثَلَاثَةٍ : النَّاكِثِينَ ، وَالْقَاسِطِينَ ، وَالْمَارِقِينَ ، فَقَدْ قَاتَلْتُ النَّاكِثِينَ ، وَقَاتَلْتُ الْقَاسِطِينَ ، وَأَنَا مُقَاتِلٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ الْمَارِقِينَ بِالسَّعَفَاتِ بِالطُّرُقَاتِ بِالنَّهْرَوَانَاتِ ، وَمَا أَدْرِي أَيْنَ هُمْ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤مخنف بن سلیم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ اس وقت اپنے گھوڑے کو چارہ کھلا رہے تھے یہ بصعنبی نامی جگہ کی بات ہے ہم نے ان سے کہا: اے سیدنا ابوایوب ! آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر مشرکین کے ساتھ جنگ کی ہے ، پھر آپ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے آ گئے ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین قسم کے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا ، ( عہد یا بیعت کو ) توڑنے والوں ، ہم پلہ ہونے کا دعوی کرنے والوں ، اور خروج ( یا بغاوت کرنے والوں ) ۔ تو میں نے ( عہد یا بیعت کو ) توڑنے والوں کے ساتھ جنگ کی ، میں نے ہم پلہ ہونے کا دعوی کرنے کے ساتھ جنگ کی ، اور اب اگر اللہ نے چاہا ، تو میں ، خروج ( یا بغاوت کرنے والوں ) کے ساتھ جنگ کروں گا ، اور مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔