حدیث نمبر: 10439
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ وَهُوَ يُقَسِّمُ ، قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : ¤ " عَلَامَتُهُمْ رَجُلٌ يَدُهُ كَثَدْيِ الْمَرْأَةِ ، كَالْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ فِيهَا شَعَرَاتٌ ، كَأَنَّهَا سَبَلَةُ سَبُعٍ " . ¤ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَحَضَرْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، وَحَضَرْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ قَتَلَهُمْ بِنَهْرَوَانَ . ¤ قَالَ : فَالْتَمَسَهُ عَلِيٌّ فَلَمْ يَجِدْهُ . ¤ قَالَ : ثُمَّ وَجَدَهُ بَعْدَ ذَلِكَ تَحْتَ جِدَارٍ عَلَى هَذَا النَّعْتِ . فَقَالَ عَلِيٌّ : أَيُّكُمْ يَعْرِفُ هَذَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : نَحْنُ نَعْرِفُهُ ، هَذَا حَرْقُوسُ ، وَأُمُّهُ هَاهُنَا . قَالَ : فَأَرْسَلَ عَلِيٌّ إِلَى أُمِّهِ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَتْ : مَا أَدْرِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِالرَّبَذَةِ فَغَشِيَنِي شَيْءٌ كَهَيْئَةِ الظُّلْمَةِ ، فَحَمَلْتُ مِنْهُ فَوَلَدْتُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مُطَوَّلًا ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ ( غزوہ حنین کا مال غنیمت ) تقسیم کر رہے تھے راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی ہے آگے چل کر انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ان لوگوں کی مخصوص نشانی ایک شخص ہو گا جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی مانند ہو گا وہ گوشت کا ایک ٹکڑا ہو گا اور اس میں کچھ بال ہوں گے ، جیسے وہ کسی درندے کا اگلا حصہ ہوتا ہے “ ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر اس دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اور پھر میں اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی موجود تھا جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو نہروان کے مقام پر قتل کیا تھا راوی کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو تلاش کیا وہ انہیں نہیں ملا اس کے بعد وہ انہیں ایک دیوار کے نیچے مل گیا اس کا حلیہ اسی طرح کا تھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں کون شخص اسے جانتا ہے ، تو حاضرین میں سے ایک صاحب بولے : ہم اسے جانتے ہیں یہ حرقوس ہے اس کی ماں یہاں موجود ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی ماں کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : یہ کون ہے اس نے بتایا : مجھے نہیں معلوم اے امیر المؤمنین میں زمانہ جاہلیت میں ایک مرتبہ بکریاں چرا رہی تھی یہ ربذہ کے مقام کی بات ہے ، تو تاریکی کی طرح کی کوئی چیز مجھ پر چھا گئی اور میں اس بچے سے حاملہ ہو گئی اور پھر میں نے اس بچے کو جنم دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10439
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1022) اخرجه احمد فى المسند (56/3)»