حدیث نمبر: 10437
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ : كُنْتُ مَعَ الْفَرَزْدَقِ فِي السِّجْنِ ، فَقَالَ الْفَرَزْدَقُ : لَا أَنْجَاهُ اللَّهُ مِنْ يَدَيْ مَالِكِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْجَارُودِ إِنْ لَمْ أَكُنِ انْطَلَقْتُ أَمْشِي بِمَكَّةَ ، فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَسَأَلْتُهُمَا ، فَقُلْتُ : إِنِّي مِنْ أَهْلِ الْمَشْرِقِ ، وَإِنَّ قَوْمًا يَخْرُجُونَ عَلَيْنَا يَقْتُلُونَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَيَأْمَنُ مَنْ سِوَاهُمْ . فَقَالَا لِي - وَإِلَّا لَا أَنْجَانِي اللَّهُ مِنْ مَالِكِ بْنِ الْمُنْذِرِ - : سَمِعْنَا خَلِيلَنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " مَنْ قَتَلَهُمْ فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ - أَوْ شَهِيدِينَ - وَمَنْ قَتَلُوهُ فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

یحیی بن یزید ہنائی بیان کرتے ہیں : میں قید میں فرزدق کے ساتھ تھا فرزدق نے کہا: اللہ تعالیٰ اس کو مالک بن منذر بن جارود سے نجات عطا نہ کرے اگر میں پیدل چل کر مکہ نہ گیا ہوتا ، میری ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان دونوں سے سوال کیا میں نے کہا: میں مشرقی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں کچھ لوگ نکل کر ہمارے سامنے آئے ، اور انہوں نے لا الہ الا اللہ پڑھنے والوں کے ساتھ جنگ شروع کر دی اور ان کے علاوہ لوگوں کو محفوظ قرار دیا ، تو ان دونوں حضرات نے مجھے یہ بتایا : جی نہیں ! ( فرزدق نے کہا: ) اللہ تعالیٰ مجھے مالک بن منذر سے نجات عطا نہ کرے ( اگر میں نے یہ بات نہ سنی ہو ) ان دونوں نے بتایا : ہم نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص انہیں قتل کرے گا اسے ایک شہید ( راوی کو شک شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو شہیدوں کا اجر ملے گا اور جس شخص کو وہ لوگ قتل کریں گے اسے شہید کا اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10437
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (904)»