حدیث نمبر: 10436
وَعَنْ أَبِي غَالِبٍ قَالَ : ¤ كُنْتُ بِدِمَشْقَ زَمَنَ عَبْدِ الْمَلِكِ ، ، فَأُتِيَ بِرُءُوسِ الْخَوَارِجِ فَنُصِبَتْ عَلَى أَعْوَادٍ ، فَجِئْتُ لِأَنْظُرَ هَلْ فِيهَا أَحَدٌ أَعْرِفُهُ ؟ فَإِذَا أَبُو أُمَامَةَ عِنْدَهَا ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ ، فَنَظَرْتُ إِلَى الْأَعْوَادِ ، فَقَالَ : " كِلَابُ النَّارِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ ، وَمَنْ قَتَلُوهُ خَيْرُ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ " قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ اسْتَبْكَى ، قُلْتُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ ، مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : كَانُوا عَلَى دِينِنَا ، ثُمَّ ذَكَرْتُ مَا هُمْ صَائِرُونَ إِلَيْهِ غَدًا . ¤ قُلْتُ أَشَيْئًا تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ أَمْ شَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : إِنِّي لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا إِلَى السَّبْعِ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، أَمَا تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ فِي آلِ عِمْرَانَ : يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ : وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ . ¤ ثُمَّ قَالَ : اخْتَلَفَ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، سَبْعُونَ فِرْقَةً فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَاخْتَلَفَ النَّصَارَى عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، إِحْدَى وَسَبْعُونَ فِرْقَةً فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَتَخْتَلِفُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثَةٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، اثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ فِرْقَةً فِي النَّارِ ، وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ . فَقُلْنَا : انْعَتْهُمْ لَنَا ، قَالَ : السَّوَادُ الْأَعْظَمُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ ، وَالتِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوغالب بیان کرتے ہیں : عبدالملک کے زمانے میں ، میں دمشق میں موجود تھا وہاں خوارج کے سر لائے گئے ، اور انہیں لکڑیوں پر لٹکا دیا گیا میں جائزہ لینے کے لئے آیا کہ کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے ، جس سے میں واقف ہوں تو ان کے پاس سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے میں ان کے قریب ہو گیا میں نے ان لکڑیوں کی طرف دیکھا تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ جہنم کے کتے ہیں انہوں نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی اور پھر کہا: یہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والے بدترین لوگ ہیں ، اور جسے انہوں نے قتل کیا ہو وہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والے سب سے بہتر لوگ ہیں یہ بات بھی انہوں نے تین مرتبہ کہی پھر وہ رونے لگے میں نے کہا: اے ابوامامہ آپ کیوں رو رہے ہیں انہوں نے فرمایا : یہ لوگ پہلے ہمارے دین پر تھے ، تو مجھے یہ خیال آ گیا کہ پھر یہ لوگ کس طرف چلے گئے میں نے کہا: کیا یہ کوئی ایسی بات ہے ، جو آپ اپنی رائے کی بنیاد پر کہہ رہے ہیں یا یہ کوئی ایسی بات ہے ، جس کے بارے میں آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بات سنی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہاں تک کہ انہوں نے سات مرتبہ کا ذکر کر کے انہوں نے فرمایا : اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ بات اتنی مرتبہ ) نہ سنی ہوتی تو میں نے تمہیں یہ بیان نہیں کرنی تھی کیا تم نے سورہ آل عمران میں موجود یہ آیت نہیں پڑھی ہے : ” اس دن کچھ چہرے سفید ہوں گے ، اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے “ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے : ” جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جن کے چہرے سفید ہوں گے ، تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے ، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے “ ۔ پھر انہوں نے یہ بات بیان کی یہودیوں نے اختلاف کیا اور پھر وہ اکہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے جن میں سے ستر فرقے جہنم میں جائیں گے ، اور ایک جنت میں جائے گا عیسائیوں نے اختلاف کیا اور وہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو گئے جن میں سے اکہتر فرقے جہنم میں جائیں گے ، اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا اور یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی جن میں سے بہتر فرقے جہنم میں جائیں گے ، اور ایک فرقہ جنت میں جائے گا ہم نے کہا: آپ ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کریں تو انہوں نے جواب دیا : سواد اعظم ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، اور امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10436
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (33) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8051) أخرجه أحمد فى المسند (250/5)»